(ویب ڈیسک)وفاقی دارالحکومت میں گزشتہ روزڈرائیور لیس گاڑی کے پولیس موبائل سے ٹکرانے کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس پر اسلام آباد پولیس کی باضابطہ وضاحت سامنے آگئی ہے، جہاں پولیس نے نوجوان طالب علم کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی کے بجائے اس کے ٹیلنٹ کی حوصلہ افزائی کی ہے۔
تفصیلات کے مطابق ایس پی سٹی ڈاکٹر ایاز حسین نے کامسیٹس یونیورسٹی ایبٹ آباد کے کمپیوٹر انجینئرنگ کے طالب علم احسان ظفر عباسی کے ہمراہ ایک ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے معاملے کی تمام تر تفصیلات واضح کر دیں۔
ایس پی سٹی ڈاکٹر ایاز حسین نے ویڈیو بیان میں کہا کہ واقعے کی مکمل انکوائری کی گئی جس میں کسی قسم کی بدنیتی یا جرم کا عنصر نہیں پایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان اپنی نئی ایجاد کا ٹیسٹ رن کر رہا تھا اور یہ حادثہ محض ایک انسانی غلطی کے باعث پیش آیا، نوجوان ہمارا قیمتی اثاثہ اور ملک کا روشن مستقبل ہیں جن کی ہم مکمل سپورٹ کرتے ہیں۔
طالب علم احسان ظفر عباسی نے واقعے کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ وہ 2018 سے انٹرنیٹ سے کنٹرول ہونے والی ڈرائیور لیس کار کے پروجیکٹ پر کام کر رہے ہیں۔انٹرویو کے دوران کیمرہ مین کے کہنے پر موبائل دکھاتے ہوئے غلطی سے دائیں کے بجائے بائیں (Left) کا بٹن دب گیا۔کمانڈ تبدیل ہونے کے سبب گاڑی موڑ کاٹتے ہوئے سامنے موجود پولیس وین سے جا ٹکرائی۔
سوشل میڈیا پر پولیس وین سے ٹکرانے والی گاڑی کی وائرل ویڈیو کا معاملہ۔
— Islamabad Police (@ICT_Police) September 1, 2026
پولیس گاڑی سے ٹکرانے والی گاڑی کے معاملے پر ایس پی سٹی زون ڈاکٹر ایاز حسین کا نوجوان کے ہمراہ ویڈیو پیغام ملاحظہ کیجیے۔#WeRIslamabadPolice pic.twitter.com/wnbkNaP102
احسان ظفر نے معاملے کو سمجھنے، تکنیکی پہلوؤں کا جائزہ لینے اور مثبت تعاون فراہم کرنے پر اسلام آباد پولیس اور بالخصوص ایس پی سٹی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے مستقبل میں بھی پاکستان کا نام روشن کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔