ویب ڈیسک: پاکستان شوبز انڈسٹری کی اداکارہ مومنہ اقبال اور مسلم لیگ (ن) کے رکنِ صوبائی اسمبلی ثاقب چدھڑ کے درمیان جاری قانونی تنازع نے نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔
ثاقب چدھڑ اور ان کی اہلیہ سمیرہ خان کی جانب سے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی میں جمع کرایا گیا تحریری بیان منظرِ عام پر آ گیا ہے، جس میں اداکارہ اور ان کے اہلِ خانہ سے متعلق مختلف دعوے اور الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
تحریری بیان کے مطابق ثاقب چدھڑ کا مؤقف ہے کہ ان کی مومنہ اقبال سے ملاقات 2020 میں ہوئی تھی، جس کے بعد دونوں کے درمیان تعلقات قائم رہے اور اس دوران اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک متعدد سفر بھی کیے گئے، جن کے اخراجات انہوں نے برداشت کیے۔
رکنِ صوبائی اسمبلی نے دعویٰ کیا ہے کہ بعد ازاں انہیں اداکارہ کی سابقہ شادی اور طلاق کے بارے میں معلومات حاصل ہوئیں، جس کے بعد انہوں نے شادی کا ارادہ ترک کر دیا اور اگست 2025 میں تعلقات ختم کر دیے۔
بیان میں مالی معاملات سے متعلق بھی دعوے کیے گئے ہیں۔ ثاقب چدھڑ کے مطابق انہوں نے مختلف اوقات میں مومنہ اقبال کے بینک اکاؤنٹ میں مجموعی طور پر 83 لاکھ روپے منتقل کیے، جبکہ اداکارہ کی بہن کی تعلیمی فیس کی مد میں بھی آسٹریلوی ڈالرز میں ادائیگیاں کیں۔
ثاقب چدھڑ نے مزید الزام عائد کیا ہے کہ بعض افراد کی جانب سے انہیں ذاتی تصاویر اور ویڈیوز وائرل کرنے کی دھمکیاں دی گئیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے متعلقہ افراد کو ایسا مواد شیئر نہ کرنے کی درخواست کی تھی۔
بیان میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ اداکارہ کے منگیتر حمزہ کی جانب سے انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئیں، جس پر چنیوٹ میں مقدمہ درج کرایا گیا۔