ویب ڈیسک: بھارتی اداکار سوشانت سنگھ راجپوت کی موت کے 6 سال بعد ان کی بہن شویتا سنگھ کیرتی نے ایک بار پھر واقعے سے متعلق کئی سوالات اٹھا دیے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مینیجر کی موت کے بعد سوشانت کہتے تھے ’وہ مجھے بھی نہیں چھوڑیں گے‘۔
سوشانت سنگھ راجپوت 14 جون 2020 کو ممبئی میں اپنے اپارٹمنٹ میں مردہ پائے گئے تھے۔ ان کی موت کو خودکشی قرار دیا گیا تھا، تاہم واقعے کے بعد بھارتی میڈیا اور عوامی سطح پر طویل بحث جاری رہی۔ مرکزی تحقیقاتی بیورو (سی بی آئی) نے تحقیقات کے بعد مجرمانہ سازش یا کسی بیرونی مداخلت کے شواہد نہ ملنے پر کیس بند کردیا تھا اور موت کو خودکشی قرار دیا تھا۔ تاہم شویتا سنگھ کیرتی نے ’سپر ٹاکس بائی دی موونگ شپ‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 6 سال گزرنے کے باوجود ان کے ذہن میں کئی سوالات موجود ہیں اور انہیں بعض باتوں کے جوابات نہیں مل سکے۔
شویتا نے سوال اٹھایا کہ سوشانت کے پوسٹ مارٹم میں اتنی جلدی کیوں کی گئی اور اگر وہ عموماً اپنے کمرے کو لاک نہیں کرتے تھے تو واقعے کے وقت کمرہ اندر سے کیسے بند تھا۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ سوشانت اپنی سابق مینیجر دیشا سالیان کی موت کے بعد شدید پریشان تھے۔ دیشا سالیان جون 2020 میں ممبئی کی ایک رہائشی عمارت سے گر کر ہلاک ہوئی تھیں۔
شویتا کے مطابق دیشا کی موت کے بعد سوشانت بار بار کہتے تھے کہ ’’وہ مجھے بھی نہیں چھوڑیں گے۔‘‘
شویتا نے امکان ظاہر کیا کہ شاید سوشانت کے پاس ایسی معلومات تھیں جنہیں وہ منظرِ عام پر لانے والے تھے، تاہم اس سے پہلے ہی ان کی موت ہوگئی۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ سوشانت کے بیان میں ’’وہ‘‘ سے کس کی طرف اشارہ تھا تو شویتا نے کہا کہ وہ خود بھی اس بارے میں نہیں جانتیں۔
واضح رہے کہ شویتا کے یہ بیانات ان کے ذاتی سوالات اور دعووں پر مبنی ہیں، جبکہ سی بی آئی کی تحقیقات میں سوشانت کی موت کو خودکشی قرار دیا گیا تھا۔