ویب ڈیسک: مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ ساتویں روز بھی شدت اختیار کیے ہوئے ہے۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے کلسٹر بموں سے لیس خیبر شکن میزائل سے تل ابیب پر حملہ کیا، جبکہ امریکا نے گزشتہ 72 گھنٹوں کے دوران ایران کے 200 اہداف کو نشانہ بنانے اور بیلسٹک میزائل کے ذخیرے سمیت 30 سے زائد بحری جہاز تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
روسی میڈیا کے مطابق ایران نے اسرائیل پر بیک وقت درجنوں ڈرونز اور میزائل داغے، تاہم فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ان حملوں سے کتنا جانی یا مالی نقصان ہوا۔ رپورٹس کے مطابق تل ابیب کی فضائی صورتحال براہ راست دکھانے والے کیمرے کو اس وقت سڑک کی جانب موڑ دیا گیا جب شہر کی فضا میں ایرانی میزائلوں کی گرج سنائی دینے لگی۔
ایرانی فوج کا کہنا ہے کہ فضائی دفاعی نظام نے کارروائی کرتے ہوئے 7 اسرائیلی ڈرون طیارے مار گرائے ہیں۔ ایران کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک 500 سے زائد بیلسٹک اور کروز میزائل داغے جا چکے ہیں جبکہ 2 ہزار سے زیادہ ڈرون بھی استعمال کیے گئے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ان میں سے تقریباً 60 فیصد میزائل امریکی افواج کو نشانہ بنانے کے لیے جبکہ 40 فیصد اسرائیلی علاقوں پر حملوں کے لیے استعمال ہوئے۔
حزب اللہ کا اسرائیلی قافلے پر حملہ
جنوبی لبنان میں حزب اللہ نے خیام قصبے کے قریب اسرائیلی فوجی گاڑیوں کے قافلے کو نشانہ بنایا جہاں دونوں فریقین کے درمیان جھڑپ بھی ہوئی۔ ادھر پاسداران انقلاب نے کہا ہے کہ ایران طویل جنگ کی تیاری کر چکا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے کسی کو مذاکرات کی پیشکش نہیں کی۔
امریکی نشریاتی ادارے کی رپورٹ
امریکی نشریاتی ادارے CNN کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق سیٹلائٹ تصاویر کے تجزیے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران نے جنگ کے آغاز میں اردن میں نصب جدید فضائی دفاعی نظام تھاڈ کے ریڈار کو تباہ کر دیا تھا جبکہ متحدہ عرب امارات میں بھی دو مقامات پر اس نظام کے ریڈار کو نشانہ بنایا گیا۔
رپورٹ کے مطابق امارات میں ریڈار عمارت کے اندر ہونے کے باعث اس کے نقصانات کا درست اندازہ لگانا مشکل ہے، جبکہ قطر میں ابتدائی خبردار کرنے والا ریڈار نظام بھی تباہ کیے جانے کی نشاندہی کی گئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ ایران نے رابطہ نظام، ریڈار اور جاسوسی آلات کو نشانہ بنا کر فضائی دفاعی نظام کو کمزور کرنے کی کوشش کی۔
ایران میں فوج اتارنا وقت کا ضیاع ہوگا: ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران اپنی بحریہ سمیت بہت کچھ کھو چکا ہے۔ امریکی ٹی وی سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ امریکا کے لیے ایران میں زمینی فوج اتارنا وقت کا ضیاع ہوگا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ ایران میں موجودہ قیادت کا خاتمہ چاہتے ہیں اور امید ظاہر کی کہ ایران کو ایک بہتر قیادت ملے گی۔
ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ
رپورٹس کے مطابق ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں میں اب تک 1230 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جبکہ ایران اور حزب اللہ کے حملوں میں 11 اسرائیلی ہلاک ہوئے ہیں۔ ایران کے جوابی حملوں میں 6 امریکی فوجی مارے گئے۔
لبنان میں اسرائیلی حملوں میں 77 افراد جاں بحق ہوئے جبکہ کویت میں دو فوجیوں سمیت چار افراد جان سے گئے۔ بحرین اور عمان میں ایرانی حملوں میں ایک ایک شخص ہلاک ہوا جبکہ متحدہ عرب امارات میں تین افراد کی اموات رپورٹ ہوئیں۔ قطر میں حملوں اور امدادی کارروائیوں کے دوران 16 افراد زخمی ہوئے جبکہ عراق میں بھی دو اموات کی اطلاع ملی ہے۔
ایران کے صدر کا قوم سے خطاب
ایرانی صدر نے قوم سے خطاب میں کردستان کے عوام کا ایران کا ساتھ دینے پر شکریہ ادا کیا اور شہداء و زخمیوں کے اہلخانہ سے اظہار ہمدردی کیا۔ انہوں نے گورنرز اور مسلح افواج کو ہدایت کی کہ کسی بھی علیحدگی پسند تحریک کو سختی سے کچلا جائے اور قومی سلامتی ہر صورت برقرار رکھی جائے۔
امریکا کے 72 گھنٹوں میں بڑے حملے
امریکی مرکزی کمان کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 72 گھنٹوں میں ایران کے 200 اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ ان کے مطابق بی ٹو بمبار طیاروں نے گہرائی میں دفن بیلسٹک میزائل لانچرز کو تباہ کرنے کے لیے درجنوں بنکر شکن بم استعمال کیے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ کارروائیوں کے بعد ایرانی بیلسٹک میزائل حملوں میں 90 فیصد کمی آ چکی ہے اور اگلے مرحلے میں ایران کی میزائل پیدا کرنے کی صلاحیت کو نشانہ بنایا جائے گا۔
اقوام متحدہ کی تشویش
یو این کے ترجمان نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل نے جنگ کے دوران ایران میں 13 طبی مراکز کو نشانہ بنایا ہے اور تمام فریقین کو بین الاقوامی قوانین کی پابندی کرنے کی ضرورت ہے۔
ترجمان کے مطابق مشرق وسطیٰ میں جنگ کی صورتحال انتہائی خطرناک ہو چکی ہے اور عالمی توانائی بحران کے خدشات بڑھ گئے ہیں، جبکہ جوہری ہتھیاروں کے استعمال کا خطرہ بھی تشویشناک حد تک بڑھ رہا ہے۔
سعودی عرب نے میزائل تباہ کر دیے
سعودی وزارت دفاع کے مطابق پرنس سلطان ایئر بیس کی جانب داغے گئے تین بیلسٹک میزائل فضائی دفاعی نظام نے فضا میں ہی تباہ کر دیے۔
بیروت میں اسرائیلی حملہ
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ بیروت کے علاقے داحیہ میں حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جبکہ لبنانی سرکاری میڈیا نے بھی شہر پر حملوں کی تصدیق کی ہے۔ لبنانی وزارت صحت کے مطابق رواں ہفتے اسرائیلی حملوں میں 123 افراد جاں بحق اور 683 زخمی ہوئے۔
حوثی رہنما کی دھمکی
یمن کے حوثی رہنما عبد الملک الحوثی نے خبردار کیا ہے کہ وہ امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ میں شامل ہونے کے لیے تیار ہیں اور صورتحال کے مطابق فوری ردعمل دیا جائے گا۔
سعودی عرب کا مؤقف
سعودی عرب نے واضح کیا ہے کہ اس کی فضائی حدود، سمندری راستے یا سرزمین ایران کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔ سعودی عرب میں ایران کے سفیر علی رضا عنایتی نے اس اعلان پر سعودی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ایران اس مؤقف کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔