(ویب ڈیسک ) سپریم کورٹ کے 4 سینئر ججز نے چیف جسٹس کو خط لکھ دیا۔جس میں 10 فروری کے جوڈیشل کمیشن اجلاس کوموخر کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق خط جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر کی جانب سے لکھا گیا،جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس عائشہ ملک نے بھی خط لکھا۔
خیال رہے کہ سپریم کورٹ میں 10 فروری کو جوڈیشل کمیشن اجلاس بلایا گیا تھا، اجلاس میں سپریم کورٹ میں 8 ججز کی تعیناتی کا معاملہ زیر غور آنا تھا۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے 5 ججز کی جانب سے بھی جوڈیشل کمیشن اجلاس ملتوی کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
سپریم کورٹ کے 4 سینئر ججز کا چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کو لکھا گیا خط منظر عام پر آگیا ۔ ججز نے 10 فروری 2024 کو جوڈیشل کمیشن کا اجلاس مؤخر کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
خط میں 4 ججز نے 26ویں ترمیم پر فل کورٹ تشکیل دینے کا مطالبہ کردیا۔ خط میں کہا گیا ہے کہ موجودہ حالات اور ان میں ہونے والی کچھ پیش رفت ہمیں یہ خط لکھنے پر مجبور کرہی ہے، بیشتر وجوہات کی بنا پر یہ ظاہر ہے کہ 26ویں ترمیم پر فل کورٹ تشکیل دی جائے، ہم پہلے بھی فل کورٹ بنانے کی درخواست کر چکے ہیں۔
خط میں کہا گیا ہے کہ آئینی بینچ نے اس مقدمے کو تاخیر سے ٹیک اپ کرکے ایک لمبی تاریخ دی، حیران کن طور پر اسی دوران جلد بازی میں جوڈیشل کمیشن کا اجلاس مقرر کردیا گیا، لاہور ہائی کورٹ میں ایک جج 15 ویں نمبر پر تھا، اسلام آباد تبادلے بعد سپریم کورٹ کیلئے اہل کیسے ہوگیا؟ ، آئینی پر طور پر مشکوک تبادلے کے بعد ایک جج کیسے سپریم کورٹ کیلئے اہل ہوسکتا ہے؟،قانون واضح ہے جو براہ راست نہیں کیا جا سکتا وہ بلاواسطہ بھی نہیں کیا جا سکتا،۔
ججز نے خط میں مطالبہ کیا ہے کہ آئینی ترمیم کیس کے فیصلے تک نئے ججز کی تعیناتی کا عمل روکا جائے۔
سپریم کورٹ کے ججز نے خط میں کہا ہے کہ کم از کم آئینی بنچ کی جانب سے فل کورٹ کی درخواستوں پر فیصلے کا انتظار کیا جائے، اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کی سنیارٹی طے ہونے تک بھی کمیشن اجلاس موخر کیا جائے،آئینی ترمیم کیس زیر سماعت ہے، ترمیم سے فائدہ اٹھانے والے ججز کے آنے سے عوامی اعتماد متاثر ہوگا،
خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ آئینی بنچ اگر فل کورٹ کی درخواستیں منظور کرتا ہے تو فل کورٹ تشکیل کون دے گا؟ ، اگر فل کورٹ بنتی ہے تو کیا اس میں ترمیم کے تحت آنے والے ججز شامل ہونگے؟، اگر نئے ججز شامل نہ ہوئے تو پھر سوال اٹھے گا کہ تشکیل کردہ بنچ فل کورٹ نہیں، اگر موجودہ آئینی بنچ نے ہی کیس سنا تو اس پر بھی پہلے ہی عوامی اعتماد متزلزل ہے، عوام کو موجودہ حالات میں ”کورٹ پیکنگ" کا تاثر مل رہا ہے، جاننا چاہتے ہیں کس کے ایجنڈا اور مفاد کیلئے عدالت کی تذلیل کی جا رہی ہے؟۔