(ویب ڈیسک )وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ملک میں سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کیلئے سازگار ماحول کی فراہمی کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ زراعت، صنعتی ترقی اور تجارت کا فروغ حکومت کا ہدف ہے، آئندہ جمعرات سے شعبہ جاتی جائزہ اجلاس باقاعدگی سے ہو گا، کسانوں کی محنت اور ویلیو ایڈیشن کی وجہ سے چاول کی برآمدات چار ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہیں، میکرو اقتصادی اشاریے بتدریج بہتر ہو رہے ہیں، حکومت میں جہاں جس کی بھی غلطی ہو گی اسے جوابدہ بنایا جائے گا۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے ممتاز کاروباری شخصیات سے ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی ترقی، خوشحالی، پیداوار اور روزگار کے مواقع بڑھانے میں کاروباری برادری کا کردار لائق تحسین ہے، مخلص اور دیانتدار کاروباری برادری ہمارا قیمتی اثاثہ ہے، آپ نے مشکل وقت میں ملکی صنعتی و معاشی ترقی کیلئے اپنا سرمایہ ملک میں لگایا ہے، آپ کی کاوشوں کی بدولت ملکی معیشت کا پہیہ چلا، لوگوں کو روزگار ملا، آپ کی مشاورت اور مفید آراء سے ملکی معیشت کی بہتری اور تمام شعبوں میں اصلاحات کا سفر جاری رکھیں گے، کاروباری شخصیات کے ساتھ ملاقاتوں کا مقصد معیشت کی بہتری کیلئے ان کی رائے لینا ہے۔
انہوں نے کہا کہ الحمدللہ ملکی معیشت صحیح سمت میں گامزن ہے، شرح سود اور مہنگائی کی شرح میں خاطر خواہ کمی آچکی ہے، حکومت ملک میں کاروباری سرگرمیوں اور سرمایہ کاری کیلئے سازگار ماحول فراہم کر رہی ہے، سرمایہ کاری کا سفر مقامی سرمایہ کاروں سے شروع ہوتا ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ میکرو اقتصادی اشاریے بتدریج بہتر ہو رہے ہیں، اب ہمیں روزگار، پیداوار اور برآمدات میں اضافے پر توجہ مرکو زکرنی ہے، زرعی اور صنعتی ترقی، تجارت کی بہتری ہمارا ہدف ہے، کاروباری برادری اور صنعتکاروں کے مسائل کا حل حکومت کی ترجیح ہے، کاروباری حالات کو بہتر بنانے کی کوششوں اور سازگار ماحول کے فروغ کیلئے حکومت بھرپور تعاون کرے گی تاکہ ملک کے مایہ ناز صنعتکار ملک میں خود بھی سرمایہ کاری کریں اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو بھی ملک میں سرمایہ کاری کے سازگار ماحول کے بارے میں بھی آگاہ کریں اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے اضافہ میں مدد کریں، اگر ملکی سرمایہ کار سرمایہ لگائیں گے تو بیرون ملک سے بھی سرمایہ کاری ہو گی۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کاروباری شعبہ سے شراکت کی خواہاں ہے تاک معیشت کا پہیہ تیزی سے گھومے، اس سلسلہ میں کاروباری برادری کی مشاورت سے اقدامات کئے جائیں گے، بیرون ملک تعینات ٹریڈ آفیسرز کو تجارت و برآمدت کے فروغ کے حوالے سے واضح اہداف فراہم کئے جا چکے ہیں۔
وزیر اعظم نے کہا کہ پلانٹ پروٹیکشن کا محکمہ تباہی کا محکمہ بن چکا تھا، کسانوں کی محنت اور ویلیو ایڈیشن کی وجہ سے چاول کی برآمدات چار ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہیں، انٹرنیشنل مارکیٹ میں اس کیلئے گریڈنگ اور سرٹیفکیشن کی ضرورت ہوتی ہے، چین نے 2005ء میں چاول کی گریڈنگ کیلئے پاکستان کو کراچی میں لیبارٹری کے قیام کیلئے گرانٹ دی لیکن اس کا کیا حال ہوا، بدقسمتی سے ہم نے اس گرانٹ سے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا اور نئی مشینری برباد ہو گئی، اسے نصب نہیں ہونے دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ آئندہ جمعرات سے ہر شعبے کا جائزہ اجلاس میرے دفتر میں ہو گا، اجلاس میں متعلقہ وزراء، سیکرٹریز اور متعلقہ شعبے کے چار افراد بھی شرکت کریں گے، شعبہ جاتی جائزہ اجلاس ہفتے میں دو بار ہو گا، آئندہ جمعرات کو ہونے والے پہلے اجلاس میں زرعی شعبہ کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے گا، حکومت میں جہاں جس کی بھی غلطی ہو گی اسے جوابدہ بنایا جائے گا۔