(ویب ڈیسک ) روس کی جانب سے 100 فیصد کامیاب اور بغیر سائیڈ ایفیکٹس والی کینسر ویکسین تیار کرلی گئی ہے۔
روس نے Enteromix کے نام سے دنیا کی پہلی mRNA ٹیکنالوجی پر مبنی کینسر ویکسین تیار کرنے کا اعلان کیا ہے، جو کلینیکل ٹرائلز میں 100 فیصد مؤثر اور محفوظ ثابت ہوئی ہے۔
یہ پیشرفت طب کی دنیا میں ایک انقلابی کامیابی قرار دی جا رہی ہے، جو دنیا بھر میں کروڑوں کینسر کے مریضوں کے لیے امید کی نئی کرن بن سکتی ہے۔
کلینیکل ٹرائلز اور سائیڈ ایفیکٹس کی تفصیلات:
ماہرین کے مطابق، Enteromix کو روس کے کچھ مخصوص کینسر مراکز میں ابتدائی کلینیکل استعمال میں لایا جا چکا ہے، جبکہ ملک بھر میں اس کی تقسیم کے لیے وزارت صحت کی حتمی منظوری کا انتظار ہے۔
ویکسین کے تجربات کے دوران کسی قسم سائیڈ ایفکٹس سامنے نہیں آئے، جو کہ روایتی کینسر علاج جیسے کیموتھراپی اور ریڈی ایشن سے بالکل مختلف ہے—جن کے نتیجے میں بالوں کا جھڑنا، تھکن، اور اعضا کو نقصان جیسی شدید علامات عام ہوتی ہیں۔
Enteromix میں استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی:
یہ ویکسین mRNA ٹیکنالوجی کا استعمال کرتی ہے، وہی طریقہ کار جو کئی کورونا ( COVID-19) ویکسینز میں استعمال کیا گیا تھا۔
اس طریقہ سے جسم کے خلیات ایسے پروٹین تیار کرتے ہیں جو کینسر کے خلیات جیسے ہوتے ہیں، جس سے مدافعتی نظام سیکھتا ہے کہ ان نقصان دہ خلیات کو کیسے پہچان کر ختم کرنا ہے۔
روایتی طریقہ علاج کے برعکس، Enteromix صرف ٹیومر کو نشانہ بناتی ہے اور صحت مند خلیات کو نقصان نہیں پہنچاتی، جس سے مریضوں کی برداشت میں بھی بہتری آتی ہے۔
استعمال کا طریقہ:
Enteromix کو ایک سادہ انٹرا مسکولر انجیکشن کے ذریعے دیا جاتا ہے، جو دیگر پیچیدہ کینسر علاج کے مقابلے میں بہت آسان اور کم تکلیف دہ ہے۔
یہ ویکسین روس کے نیشنل میڈیکل ریسرچ ریڈیالوجیکل سینٹر اور اینجلہارٹ انسٹی ٹیوٹ آف مولیکیولر بائیولوجی (EIMB) کے تعاون سے تیار کی گئی ہے، جو کینسر اور مالیکیولر میڈیسن کے شعبے میں نمایاں ادارے سمجھے جاتے ہیں۔
اس سے کون کونسے افراد مستفید ہونگے؟
طبی ماہرین کا ماننا ہے کہ Enteromix ویکسین کینسر کے مختلف اقسام میں مبتلا مریضوں کے لیے مفید ثابت ہو سکتی ہے، جن میں پھیپھڑوں، چھاتی، آنتوں اور لبلبے کے کینسر شامل ہیں۔
یہ ویکسین اُن افراد کے لیے بھی امید کی نئی کرن ثابت ہو سکتی ہے جو وراثتی کینسر (جیسے BRCA1/2 جین کی تبدیلیوں) کا شکار ہیں، یا جن کے ٹیومر کیموتھراپی کے خلاف مزاحمت پیدا کر چکے ہیں، نیز ایسے مریض جو کمزور مدافعتی نظام کی وجہ سے روایتی علاج برداشت نہیں کر پاتے۔
کینسر کے علاج میں نئے دور کا آغاز:
اگر اس ویکسین کو حتمی منظوری مل گئی، تو Enteromix دنیا بھر میں کینسر کے علاج میں ایک انقلابی تبدیلی کا باعث بن سکتی ہے۔ یہ مریضوں کو تکلیف دہ اور جارحانہ طریقہ علاج کے متبادل فراہم کرے گی، جس سے نہ صرف زندگی کی مدت بلکہ معیارِ زندگی بھی بہتر ہو سکتا ہے۔
آنکولوجی کے ماہرین پُرامید ہیں کہ ایسی ویکسینز مستقبل میں جدید اور مخصوص (پریسیژن) تھراپی کی بنیاد رکھیں گی، جو کہ کینسر کے عمومی علاج کو چھوڑ کر شخصی اور ہدفی علاج کی طرف قدم ہوگا۔