ویب ڈیسک: جرمنی نے اسرائیل کو ہتھیاروں کی فراہمی روکنے کا اعلان کردیا، جرمنی حکام کا کہنا تھا ’ایسا فوجی سامان برآمد نہیں کیا جائے گا جو غزہ میں استعمال ہو‘۔
جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے نے جمعے کو کہا کہ ان کا ملک اسرائیل کو ہتھیاروں کی فروخت روک دے گا ۔ ان کا کہنا ہے کہ غزہ سٹی پر اسرائیلی قبضے کے منصوبے کی منظوری کے بعد جرمن ہتھیار غزہ کی پٹی پر استعمال ہو سکتے ہیں۔
جرمن چانسلر کا کہنا ہے کہ تاحکم ثانی حکومت اسرائیل کو کوئی بھی فوجی ہتھیار برآمد کرنے کی منظوری نہیں دے گی جنھیں غزہ میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔
فریڈرک مرز کا کہنا تھا کہ یہ سمجھنا بہت مشکل ہوتا جا رہا ہے کہ موجودہ حالات میں اسرائیلی فوج کا منصوبہ کیسے ان کو جائز مقاصد دلوانے میں مدد دے سکتا ہے۔
واضح رہے کہ جرمنی تاریخی طور پر اسرائیل کو ہتھیاروں کی سپلائی کرنے والے بڑے ممالک میں شامل ہے۔
دوسری جانب چین کی وزات خارجہ نے غزہ شہر پر قبضے کے اسرائیلی منصوبے کی منظوری کے بعد اپنے ردعمل میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔
چین کا کہنا ہے کہ غزہ فلسطینی عوام کا ہے۔
یورپی کمیشن کی صدر ارسلا فان ڈیر لیئن نے اپنے پیغام میں اسرائیل سے کہا ہے کہ اسرائیل کو غزہ میں فوجی آپریشن کو وسیع کرنے کے فیصلے پر نظرثانی کرنی چاہیے،مغوی جو اس وقت ناموافق حالات میں قید ہیں، کی رہائی ضروری ہے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ غزہ میں فوری طور پر امداد کی ضرورت ہے جسے پہنچایا جانا چاہیے، غزہ میں فوری طور پر سیز فائر کا مطالبہ بھی کیا۔