ویب ڈیسک: لاہور کی نجی یونیورسٹی میں طالبعلم اویس کی خودکشی کا واقعہ، پنجاب ہائیرایجوکیشن کمیشن کی چار رکنی انکوائری کمیٹی کی رپورٹ کی تفصیلات سامنے آگئیں۔
رپورٹ کے مطابق اراکین نے یونیورسٹی انتظامیہ، اساتذہ اویس کے اہل خانہ اور دوستوں کے انٹرویوز پر رپورٹ تیار کی، طالبعلم لمبے عرصے سے نفسیاتی مسائل کا شکار تھا، طالبعلم نے نفسیاتی مسائل کے لیے نفسیاتی کاونسلنگ نہیں لی،اویس کی تمام مضامین میں حاضری پوری، ایک مضموں میں 68 فیصد تھی،اویس مزید 10 لیکچرز لے کر کم حاضری والے مضمون میں حاضری پوری کرسکتا تھا۔
دوستوں کے مطابق خودکشی سے دو ہفتے قبل طالبعلم میں بہت تبدیلی پائی، دوستوں کے مطابق اویس خوفناک فلمیں دیکھنے، گیمز کھیلنے کا عادی تھا، واقعہ سے دس روز قبل طالبعلم بہت خاموش رہنے لگا تھا،لیب کوٹ نہ ہونے پر ایک خاتون استاد نے حاضری نہ لگائِی، امتحان سے روکا،معاملے پر اویس کلاس میں رویا جس پر حاضری لگادی گئی۔
اہل خانہ کے مطابق اویس حساس، خود پسند اور شرمیلا تھا، اویس آن لائن گیمنگ اور خوفناک فلمیں دیکھنے کا عادی تھا، گھر سے باہر نہیں جاتا تھا۔
سفارشات کی گئیں کہ پنجاب حکومت جامعات میں نفسیاتی کاونسلنگ سنٹر کا قیام یقینی بنائے،مینٹل ہیلتھ سے متعلق اساتذہ اور اسٹاف کی رہنمائی بھی لازمی کی جائے،وی سی یونیورسٹی آف ایجوکیشن،وی سی ہوم اکنامکس یونیورسٹی، یو ایم ٹی کے ریکٹر، پنجاب ہائیرایجوکیشن کمیشن کے ڈائریکٹر نے رپورٹ تیار کی۔