لاہور ہائیکورٹ: 18 سال سے کم عمر لڑکی کی شادی غیر قانونی قرار، تحریری حکم جاری

لاہور ہائیکورٹ: 18 سال سے کم عمر لڑکی کی شادی غیر قانونی قرار، تحریری حکم جاری
کیپشن: لاہور ہائیکورٹ: 18 سال سے کم عمر لڑکی کی شادی غیر قانونی قرار، تحریری حکم جاری

ویب ڈیسک: لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ 18 سال سے کم عمر لڑکی کے ساتھ اس کی رضامندی کے باوجود ازدواجی زندگی گزارنا چائلڈ ابیوز کے زمرے میں آتا ہے، جبکہ کم عمر لڑکی کی رضامندی اسے بالغ شخص کے ساتھ رہنے کا قانونی حق نہیں دیتی۔

جسٹس منور اقبال دوگل نے کم عمری کی شادی سے متعلق 11 صفحات پر مشتمل تحریری حکم جاری کرتے ہوئے جسٹس آف پیس قصور کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا اور پولیس کو کم عمری کی شادی اور مبینہ جعلی نکاح نامے کے الزامات کی تحقیقات کا حکم دیا۔ عدالت نے تھانہ بی ڈویژن قصور کے ایس ایچ او کو قانون کے مطابق مقدمہ درج کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ پولیس کم عمری کی شادی کے الزام کی تحقیقات سے انکار نہیں کرسکتی۔

عدالتی حکم کے مطابق موجودہ کیس میں لڑکی کی عمر نکاح کے وقت تقریباً 15 سال 2 ماہ تھی۔ نادرا ریکارڈ کے مطابق لڑکی کی تاریخ پیدائش یکم مارچ 2011 ہے، جبکہ عدالت نے اسے مبینہ شوہر کے ساتھ جانے کی اجازت دینے سے انکار کردیا۔

عدالت نے لڑکی کو چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو کی محفوظ تحویل میں رکھنے اور والدین یا مبینہ شوہر سے ملاقات صرف نگرانی میں کرانے کی ہدایت کی۔ لڑکی کی مستقل تحویل کا فیصلہ گارڈین جج کرے گا۔

حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ 18 سال سے کم عمر لڑکی سے شادی چائلڈ میرج کے زمرے میں آتی ہے، جبکہ ایسی شادی کے نتیجے میں کم عمر لڑکی کے ساتھ ازدواجی تعلق پر 5 سے 7 سال قید اور چائلڈ ابیوز کے جرم میں کم از کم 10 لاکھ روپے جرمانہ ہوسکتا ہے۔

 کیس کے مطابق لڑکی نے 18 مئی 2026 کو پسند کی شادی کی تھی، جس پر اس کے والد نے لڑکے کے خلاف اغوا کا مقدمہ درج کرایا۔ لڑکی نے مجسٹریٹ کے سامنے بیان دیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شادی کی تھی۔

میونسپل کمیٹی نے عدالت کو بتایا کہ نکاح کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں۔ لڑکی کے والد نے کم عمری کی شادی کی بنیاد پر مقدمہ درج کرنے کی درخواست دی، تاہم پولیس کی جانب سے کارروائی نہ ہونے پر جسٹس آف پیس سے رجوع کیا گیا تھا۔ جسٹس آف پیس کی جانب سے بھی درخواست مسترد کیے جانے کے بعد معاملہ لاہور ہائیکورٹ پہنچا، جہاں عدالت نے پولیس کو قانونی کارروائی اور الزامات کی تحقیقات کی ہدایت کردی۔

Watch Live Public News