عالمی یومِ خواندگی: پاکستان میں شرحِ خواندگی 63 فیصد، صنفی و علاقائی فرق برقرار 

عالمی یومِ خواندگی: پاکستان میں شرحِ خواندگی 63 فیصد، صنفی و علاقائی فرق برقرار 
کیپشن: عالمی یومِ خواندگی: پاکستان میں شرحِ خواندگی 63 فیصد، صنفی و علاقائی فرق برقرار 

ویب ڈیسک: دنیا بھر میں ہر سال 8 ستمبر کو عالمی یومِ خواندگی منایا جاتا ہے، جس کا مقصد اس بنیادی انسانی حق کی اہمیت اجاگر کرنا ہے کہ ہر فرد کو پڑھنے، لکھنے اور معلومات کو سمجھنے کی صلاحیت حاصل ہو۔

یونیسکو کے مطابق خواندگی افراد کو اپنے حقوق سمجھنے، بہتر فیصلے کرنے، معاشی مواقع سے فائدہ اٹھانے اور معاشرے میں مؤثر کردار ادا کرنے کے قابل بناتی ہے۔ عالمی یومِ خواندگی کا آغاز 1967 میں ہوا۔ موجودہ ڈیجیٹل دور میں خواندگی کا تصور بھی وسیع ہوگیا ہے۔ اب صرف پڑھنا لکھنا کافی نہیں بلکہ معلومات کو سمجھنا، درست اور غلط خبروں میں فرق کرنا، ڈیجیٹل ذرائع کا ذمہ دارانہ استعمال اور بنیادی مالی و حسابی امور سے واقفیت بھی ضروری ہے۔

پاکستان میں خواندگی کی صورتحال
پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے مطابق ملک میں 10 سال یا اس سے زائد عمر کی آبادی کی شرحِ خواندگی 63 فیصد ہے۔ مردوں میں یہ شرح 73 فیصد جبکہ خواتین میں 54 فیصد ہے۔

شہری علاقوں میں شرحِ خواندگی 74 فیصد جبکہ دیہی علاقوں میں 55 فیصد ہے۔ شہری خواتین میں خواندگی کی شرح 68 فیصد کے مقابلے میں دیہی خواتین میں تقریباً 44 فیصد ہے، جو تعلیم تک رسائی میں نمایاں صنفی اور علاقائی فرق کی نشاندہی کرتی ہے۔

صوبوں میں پنجاب تقریباً 68 فیصد شرحِ خواندگی کے ساتھ سب سے آگے، سندھ اور خیبر پختونخوا تقریباً 58 فیصد جبکہ بلوچستان تقریباً 49 فیصد کے ساتھ سب سے پیچھے ہے۔

ڈھائی کروڑ بچے اب بھی اسکول سے باہر
پاکستان میں اسکول سے باہر بچوں کی بڑی تعداد بھی تعلیم کے فروغ میں ایک اہم رکاوٹ ہے۔ اقتصادی سروے 2025-26 کے مطابق 5 سے 16 سال کی عمر کے اسکول سے باہر بچوں کی شرح 2023 کے 38 فیصد سے کم ہوکر 2025 میں 28 فیصد رہ گئی، تاہم ملک میں اب بھی تقریباً ڈھائی کروڑ بچے اسکول سے باہر ہیں۔

غربت، اسکولوں کا دور ہونا، محفوظ سفری سہولیات کی کمی، اساتذہ کی قلت، کمزور تعلیمی انفراسٹرکچر اور بعض علاقوں میں سماجی رکاوٹیں بچوں، بالخصوص لڑکیوں، کی تعلیم میں بڑی مشکلات ہیں۔

خواندگی کا نیا تصور
موجودہ دور میں عملی خواندگی میں ڈیجیٹل، مالی اور صحت سے متعلق معلومات کو سمجھنے کی صلاحیت بھی شامل ہے۔ موبائل فون اور انٹرنیٹ نے معلومات تک رسائی آسان بنائی ہے، تاہم جعلی خبروں، غلط معلومات اور آن لائن فراڈ کے بڑھتے ہوئے خطرات کے باعث معلومات کی صحت اور درستگی جانچنے کی صلاحیت بھی ضروری ہوگئی ہے۔

ماہرین کے مطابق پاکستان میں خواندگی بڑھانے کے لیے سرکاری اسکولوں کے معیار، اساتذہ کی تربیت، بنیادی سہولیات اور اسکولوں تک رسائی بہتر بنانے کے ساتھ دیہی علاقوں میں لڑکیوں کے لیے قریبی اسکول، محفوظ ٹرانسپورٹ اور وظائف جیسے اقدامات پر توجہ دینا ہوگی۔

عالمی یومِ خواندگی اس امر کی یاد دہانی ہے کہ خواندگی محض پڑھنے لکھنے کی صلاحیت نہیں بلکہ بااختیار فرد اور مضبوط معاشرے کی بنیاد ہے۔

Watch Live Public News