پاکستان کو تنہاکرنے کی کوششس میں مودی خود تنہاہوگیا، بی بی سی

پاکستان کو تنہاکرنے کی کوششس میں مودی خود تنہاہوگیا، بی بی سی
کیپشن: پاکستان کو تنہاکرنے کی کوششس میں مودی خود تنہاہوگیا، بی بی سی

ویب ڈیسک: بی بی سی نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ مودی پاکستان کو تنہا کرنا چاہتے تھے، مگر خود تنہا ہو گئے۔ بھارت نے پاکستان کی ثالثی کو نظرانداز کر کے خود کو سفارتی طور پر مزید کمزور کیا- عالمی بحران میں پاکستان فعال، بھارت غیر مؤثر کردار میں محدود دکھائی دیا۔

بی بی سی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انڈیا نے ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ میں دو ہفتے کی جنگ بندی کا خیر مقدم کیا ہے مگر پاکستان کا نام لینے یا اس کی کوششوں کا ذکر کرنے سے گریز کیا ہے۔ پاکستان نے امریکہ، ایران، چین کا اعتماد حاصل کر لیا۔ مودی حکومت اسرائیل کے قریب، سفارتی توازن برقرار نہ رکھ سکی۔ جہاں دنیا بھر کے رہنما پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کو سراہ رہے ہیں، انڈیا کی وزارتِ خارجہ نے مکمل خاموش اختیار کی ہے۔

بھارتی میڈیا و تجزیہ کار بھی پاکستان کے کردار کو تسلیم کرنے لگے۔ انڈیا کی اپوزیشن جماعتیں، صحافی و تجزیہ کار پاکستان کے سفارتی کردار کی تعریف کرتے اور مودی حکومت کی سفارتکاری پر طنز کرتے نظر آ رہے ہیں۔

کانگریس رہنما راشد علوی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ جو پاکستان نے کر دکھایا ہے وہ انڈیا کو کرنا چاہیے تھا۔ جب وزیر اعظم مودی اسرائیل کو ’فادر لینڈ‘ کہتے ہوں تو وہ جنگ بندی کے لیے کیسے بات کرتے۔

سابق خارجہ سیکرٹری،نوپمامینن راؤ نے کہا کہ پاکستان کی سفارتی اہمیت کو کم نہیں کیا جا سکتا۔ یہ وقت بھارت کے لئے چپ رہنے کا نہیں بلکہ یہ فہم و دانش مندی سے بولنے کا وقت ہے۔

انڈین تجزیہ کار اشوک سوئن کا کہنا تھا کہ یہ جنگ بندی ایران کی فتح اور پاکستان کے لیے باعثِ اعزاز ہے۔ مودی پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنا چاہتے تھے، مگر اس کے برعکس انڈیا خود تنہا ہو گیا ہے۔ سرد جنگ کے دور میں امریکہ اور چین کے درمیان امن کی راہ ہموار کرنے والا پاکستان ہی تھا، اور اب سرد جنگ کے بعد کے دور میں امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں بھی پاکستان ہی کردار ادا کر رہا ہے۔ جے شنکر چاہے کچھ بھی کہہ لیں، مگر کسی کے پاس ایسا ریکارڈ نہیں۔

 ابھینوسنگھ نے کہا کہ پاکستان کے امریکہ، چین، روس، خلیجی ممالک اور ایران کے ساتھ تعلقات ہیں۔ اس کے برعکس مودی کے پاس نیتن یاہو کی دی گئی جھپی اور میڈل ہے۔

بھارتی صحافی انجنا شنکر نے کہا کہ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ آخر کچھ لوگ ثالثی میں پاکستان کے کردار کو اہمیت کیوں نہیں دینا چاہتے۔ اس جنگ کے عروج کے دوران پاکستان نے سفارتی راستے کو بند نہیں ہونے دیا۔ اسلام آباد کی دو ہفتے کی جنگ بندی کرانے میں کامیابی بہت بڑا کارنامہ ہے۔

بھارتی شہری کیپٹن نریش سنگھ نے کہا کہ انڈیا کے ایل پی جی اور پیٹرول کے مسائل ہمارے لیڈر (مودی) نے نہیں بلکہ پاکستان کے وزیرِاعظم نے حل کروائے ہیں۔ مودی جی کی ناکام سفارت کاری کا نتیجہ یہ ہے کہ پاکستان وشوا گرو بن گیا ہے۔ چھوٹی سوچ اور تلخی کا مظاہرہ کرنے کے بجائے ہمیں یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ اس جنگ بندی میں پاکستان نے کردار ادا کیا۔

Watch Live Public News