ویب ڈیسک: لیبیا کے ساحل کے قریب تارکین وطن کی کشتی کو حادثے کی اطلاعات ہیں۔ جس پر کم از کم 65 مسافر سوار تھے۔ ان میں اب تک 10 افراد کی لاشیں نکال لی گئی ہیں۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق مرسا ڈیلا بندرگاہ سے تارکین وطن کی کشتی ڈوبنے کے بعد 10 لاشیں نکالی گئیں۔ لیبین میڈیا کے مطابق ہلال احمر نے کشتی ڈوبنے کی وجہ اور مسافروں کی شناخت نہیں بتائی
لیبیا میں پاکستانی سفارت خانے کے مطابق شمال مغربی شہر زاویہ کے قریب مارسادیلا بندرگاہ کے پاس کشتی الٹنے کا واقعہ رونما ہوا ہے ۔
ترجمان دفتر خارجہ کے جاری کردہ بیان کے مطابق ڈوبنے والی کشتی پر 65 مسافر سوار تھے۔طرابلس میں پاکستانی سفارت خانے نے لاشوں کی شناخت کے لیے ٹیم زاویہ ہسپتال روانہ کر دی ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستانی سفارت خانہ متاثرہ پاکستانی شہریوں کی تفصیلات حاصل کرنے کی بھی کوشش کر رہا ہے۔صورتحال کی نگرانی کے لیے وزارت خارجہ کا کرائسز مینجمنٹ یونٹ فعال کر دیا گیا ہے۔
فرانس میں بھی 2تارکین وطن ڈوب گئے:
فرانسیسی حکام نے کہا ہے کہ شمالی ملک کے ساحل سے دو مشتبہ افراد کی لاشیں ملی ہیں جبکہ سمندر میں 230 افراد کو بچا لیا گیا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق شمالی فرانس کے ساحل پر ایسے دو افراد کی لاشیں ملی ہیں، جو ممکنہ طور پر برطانیہ پہنچنے کی کوشش کر رہے تھے۔
تارکین کو پیش آنے والے حادثات اور اموات کے باوجود لوگ انتہائی سرد موسم کے دوران بھی سمندر پار کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
فرانس کے بحری حکام کے مطابق ’اتوار کے روز سمندر میں مجموعی طور پر 230 افراد کو بچایا گیا۔‘ بچائے جانے والوں میں ایک ایسا گروپ بھی شامل ہے جو صبح برطانیہ کے لیے روانہ ہوا تھا تاہم ان کی کشتی ناکارہ ہونے کی وجہ سے 57 افراد کوگریولینز کے قریب پانی میں چھوڑ دیے گئے۔ان میں سے ایک شخص بے ہوش تھا جبکہ شدید سردی کی وجہ سے دوسرے پر کپکپی طاری تھی۔
ایک اور کشتی کی جانب سے ہنگامی پیغام دیا گیا جس میں 38 افراد سوار تھے۔اسی طرح ایک مقام سے ملنے والی کشتی سے بھی 19 افراد کو نکالا گیا۔ڈنکرک کے قریب، 42 مسافروں کو بچایا گیا جن میں دو کو ایئر لفٹ کے ذریعے ہسپتال پہنچایا گیا۔شام کے وقت ایک پیٹرول بوٹ نے 33 افراد کو بچایا جو صبح سمندر عبور کرنے میں ناکام ہو گئے تھے۔
یاد رہے کہ حالیہ مہینوں میں کیلی کے آس پاس کے ساحلوں پر تارکین وطن کی عارضی کشتیاں الٹنے کے بعد لاشیں ملی تھیں۔ فرانسیسی حکام کے مطابق گزشتہ سال کم از کم 76 تارکین وطن برطانیہ پہنچنے کی کوشش میں جان سے گئے تھے۔
لیبیا سے بھی غیرقانونی تارکین وطن کی اجتماعی لاشیں برآمد:
لیبیا کے سکیورٹی حکام کے مطابق پہلی اجتماعی قبر جمعے کے روز جنوب مشرقی شہر کفرہ کے ایک فارم سے ملی، جس میں 19 لاشیں برآمد ہوئیں۔ حکام کے مطابق ان لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔
لیبیائی حکام نے اپنے آفیشل فیس بک پیج پر ایسی تصاویر شئیر کی ہیں، جن میں پولیس افسران اور طبی عملے کو ریت میں کھدائی کرتے ہوئے اور کمبل میں لپٹی ہوئی لاشیں برآمد کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
العبرین، جو کہ ایک خیراتی ادارہ ہے اور مشرقی اور جنوبی لیبیا میں تارکین وطن کی مدد کرتا ہے، نے کہا کہ ان افراد میں سے کچھ کو اجتماعی قبر میں دفن کرنے سے پہلے گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔
کفرہ میں سکیورٹی چیمبر کے سربراہ محمد الفدیل کے مطابق، ''انسانوں کی اسمگلنگ کے ایک مرکز پر چھاپے کے بعد کفرہ میں ایک اور اجتماعی قبر ملی ہے، جس میں کم از کم 30 لاشیں دفن تھیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ زندہ بچ جانے والوں کی جانب سے فراہم اطلاعات کے مطابق اس علاقے میں 70 افراد کو دفن کیا گیا ہے۔ سکیورٹی حکام کی جانب سے اس علاقے کی تلاش جاری ہے۔