وزیر اعظم کی زیر صدارت قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس،4 نکاتی ایجنڈے کی اتفاق رائے سے منظوری

وزیر اعظم کی زیر صدارت قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس،4 نکاتی ایجنڈے کی اتفاق رائے سے منظوری

(ویب ڈیسک )   وزیر اعظم کی زیر صدارات اجلاس میں قومی اقتصادی کونسل کے 4 نکاتی ایجنڈے کی اتفاق رائے سے منظوری دی گئی۔

وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت قومی اقتصادی کونسل (NEC) کا اجلاس ہوا۔وزیراعظم  نےمشکل معاشی حالات میں وفاقی حکومت سے مثالی تعاون پر چاروں وزرائے اعلیٰ سے اظہار تشکر کیا۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ وفاقی اکائیوں کے درمیان اسی یکجہتی اور تعاون کے جذبے سے ملک ترقی کرے گا۔

ملک میں معاشی استحکام کیلئے کوششوں پر وزیراعظم کی معاشی ٹیم کی کارکردگی کی پزیرائی کی گئی۔

اجلاس کے شرکاء نے خلیج میں حالیہ کشیدگی سے عالمی معیشت میں منفی اثرات کے باوجود پاکستانی معیشت کو مستحکم رکھنے اور خطے میں کشیدگی کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششوں پر وزیراعظم کو خراج تحسین پیش کیا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ بڑھتی ہوئی آبادی ملک کو درپیش بڑے چیلنجز میں سے ہے، بہترین صحت کے نظام کے ذریعے بیماریوں کے بڑھتے بوجھ میں کمی، بچوں کی صحت بالخصوص Stunting کا خاتمہ، اسکول سے باہر بچوں کو تعلیم کی فراہمی اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنا قومی ترجیحات ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو فنی اور پیشہ ورانہ مہارتوں سے آراستہ کرنے کی حکمت عملی پر کار بند ہیں، برآمدات پر مبنی معیشت ترقی کیلئے اولین ترجیح ہے۔

وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ وفاق اور صوبوں کے ترقیاتی منصوبوں میں ہم آہنگی پیدا کی جائے، ترقیاتی منصوبوں کو قومی ترجیحات اور پائیدار معاشی اہداف کے مطابق ترتیب دیا جائے،مشترکہ قومی کاوشوں سے پاکستان کو ترقی، خوشحالی اور معاشی خود انحصاری کی منزل تک پہنچائیں گے۔

اجلاس میں قومی اقتصادی کونسل کے 4 نکاتی ایجنڈے کی اتفاق رائے سے منظوری دی گئی۔اجلاس کو مالی سال 2025-26 کے لیے معیشت کی کارکردگی کے حوالےسے نظر ثانی شدہ اشاریے پیش کئے گئے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ مالی سال 2025-26 وفاقی پی ایس ڈی پی پر 820 ارب، صوبوں کے سالانہ ترقیاتی منصوبوں پر 2938 ارب اور ایس او ایز پروگرام پر 355 ارب روپے خرچ کیے جا رہے ہیں۔

اجلاس نے مالی سال 2026-27 کے لیے قومی ترقیاتی بجٹ کیلئے 3669 ارب روپے مختص کرنے بھی منظوری دے دی۔

قومی اقتصادی کونسل نے وفاقی پی ایس ڈی پی کے لیے ایک ہزار ارب، صوبائی سالانہ ترقیاتی پروگرام کے لیے 2218 ارب روپے اور ایس او ایز کے لیے 451 روپے مختص کرنے کی منظوری دی۔

قومی اقتصادی کونسل نے 2025-26 کیلئے مجموعی قومی پیداوار کی 3.7 فیصد شرح نمو اور اگلے مالی سال کیلئے 4 فیصد شرح نمو کی منظوری دے دی۔

قومی اقتصادی کونسل نے متعلقہ وزارتوں، صوبوں اور سرکاری اداروں کو ہدایت کی کہ مجوزہ سالانہ پلان 2027-2026 کے اہداف کے حصول کے لئے وزارت منصوبہ بندی کے ساتھ مل کر کام کریں۔

اجلاس کو اپریل 2025 سے مارچ 2026 تک CDWP اور ECNEC کی کارکردگی کی رپورٹ بھی پیش کی گئی۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ اس عرصے کے دوران CDWP نے 316 ارب روپے کی 116 سکیموں جب کہ ECNEC نے 5.117 کھرب روپے کی 72 سکیموں کی منظوری دی۔

اجلاس کو 2025-26 کے میگا منصوبوں کی نگرانی اور جائزے کی رپورٹ بھی پیش کی گئی۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ جائزے اور نگرانی کی نئی پالیسی بھی تشکیل دی جا چکی ہے جس میں ترقیاتی منصوبوں کی اے آئی کے ذریعے بھی جانچ پڑتال کا پائلٹ منصوبہ شامل ہے۔

قومی اقتصادی کونسل نے اڑان پاکستان کے تحت قومی اقتصادی ترقی کے 11 مشنز کی منظوری دی۔

وزارت منصوبہ بندی و ترقی کو ان مشنز کی وزارتوں اور صوبائی حکومتوں سے ملکر روڈ میپ تیار کرنے کی ہدایت جاری کی گئیں۔

وزیر اعظم نے قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس کے تمام نکات کی اتفاق رائے سے منظوری پر شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ قومی امور پر اسی طرح اتفاق رائے سے فیڈریشن مزید مضبوط ہوگا اور اتفاق و اتحاد کا یہی جذبہ پاکستان کے روشن مستقبل کی ضامن ہے۔

اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ محمد آصف، وزیر منصوبہ بندی ڈاکٹر احسن اقبال، وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ کے ساتھ ساتھ وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، وزیر اعلی خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی، وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب سرفراز بگٹی، پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب اور قومی اقتصادی کونسل کے دیگر ارکان شریک تھے۔

Watch Live Public News