ویب ڈیسک:دنیا میں آئے روز مصنوعی ذہانت پر مبنی نت نئے 'اے آئی ماڈلز' متعارف کروانے کی باقاعدہ جنگ چِھڑ چکی ہے جس میں چین واضح طور پر سبقت حاصل کرتا نظر آرہا ہے۔
حال ہی میں امریکی ارب پتی بزنس مین ایلون مسک نے اپنا جدید ترین Grok 3 AI ماڈل متعارف کروایا تھا، جس کے بارے میں ان کا دعویٰ تھا کہ یہ چین کے 'ڈیپ سیک' سمیت آج تک تخلیق کیے گئے تمام AI ماڈلز سے تیز ترین ہے۔
تاہم اب چین کی جانب سے متعارف کرایا گیا نیا اے ماڈل ’ مینس‘ ( Manus) نے دنیا کو دنگ کر دیا ہے،یہ دنیا کا پہلا اے آئی ماڈل ہے جو خود فیصلے کرتا ہے، خود منصوبہ بندی کرتا ہے اور بغیر کسی انسانی ہدایت کے کام سرانجام دیتا ہے۔
یہ نیا اے آئی ماڈل 'ڈیپ سیک' تیار کرنے والی کمپنی کی حریف 'علی بابا' کی ذیلی کمپنی 'مانیکا' نے تیار کیا ہے۔
اس کی سب سے منفرد بات یہ ہے کہ اب تک متعارف کروائے گئے تمام اے آئی ماڈلز کو انسان کی جانب سے ہدایت اور رہنمائی درکار ہوتی تھی، تاہم ' مینس' بغیر حکم اور اجازت کے خود بھی فیصلے کر سکتا ہے، اس کی رفتار اور ذہانت نے پوری اے آئی انڈسٹری کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ ایک خود مختار مصنوعی ذہانت کا نظام ہے جو ویب براؤزنگ، سرمایہ کاری کے تجزیے اور دیگر پیچیدہ کاموں کو بیک وقت سرانجام دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اس چینی ٹول کو اوپن اے آئی، گوگل اور اینتھروپک جیسے ماڈلز کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
دعویٰ کیا جارہا ہے کہ ' مینس' کی کارکردگی کئی جدید اے آئی ماڈلز سے بہتر ہے، تاہم یہ ابھی ابتدائی آزمائشی مراحل میں ہے اور محدود صارفین کیلئے دستیاب ہے۔