چین نے 300 سال سے زائد عرصے تک چلنے والی ’واٹر بیٹری‘ ایجاد کرلی

چین نے 300 سال سے زائد عرصے تک چلنے والی ’واٹر بیٹری‘ ایجاد کرلی

(ویب ڈیسک) چینی سائنسدانوں نے بیٹری ٹیکنالوجی کے شعبے میں تاریخ ساز کامیابی حاصل کرتے ہوئے پانی پر مبنی ایک ایسی محفوظ بیٹری (Water Battery) تیار کر لی ہے جو 300 سال سے زیادہ عرصے تک قابلِ استعمال رہ سکتی ہے اور روایتی لیتھیم آئن بیٹریوں کے مقابلے میں مکمل طور پر محفوظ ہے۔

اسمارٹ فونز، لیپ ٹاپس اور برقی آلات میں عام استعمال ہونے والی روایتی لیتھیم آئن بیٹریاں زیادہ گرم ہونے یا خراب ہونے کی صورت میں آگ پکڑنے، دھماکے اور زہریلی گیسیں خارج کرنے کا سبب بنتی ہیں۔

اس کے برعکس پانی پر مبنی بیٹریاں (Aqueous Batteries) مکمل طور پر غیر آتش گیر مائع پر کام کرتی ہیں جس سے آگ لگنے کا خطرہ صفر ہو جاتا ہے۔

سابقہ واٹر بیٹریوں میں تیزابی یا الکلائن الیکٹرولائٹس کے باعث زنگ اور منفی کیمیائی ردِعمل پیدا ہوتا تھا جس سے بیٹری جلد خراب ہو جاتی تھی۔

چینی محققین نے اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے ایک مخصوص آرگینک پولیمر کو نیوٹرل الیکٹرولائٹ کے ساتھ ملا دیا۔ اس کے لیے انہوں نے پانی کے ساتھ میگنیشیم یا کیلشیم نمکیات کا آمیزہ استعمال کیا—یہ وہی معدنی نمکیات ہیں جو سویا ملک سے 'ٹوفو' (پنیر نما غذا) تیار کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔

120,000 چارج سائیکلز اور 329 سال کی عمر:

لیبارٹری ٹیسٹنگ کے دوران اس تجرباتی بیٹری کو 1 لاکھ 20 ہزار بار چارج اور ڈسچارج کیا گیا اور اس میں کوئی تکنیکی خرابی پیدا نہیں ہوئی۔روزانہ ایک مکمل چارج اور ڈسچارج سائیکل کے حساب سے یہ مدت تقریباً 329 سال بنتی ہے۔میگنیشیم کلورائیڈ کے ٹیسٹ میں اس طویل دورانیے کے بعد بھی بیٹری نے اپنی اصل گنجائش کا تقریباً 72 فیصد حصہ برقرار رکھا۔

یہ بیٹریاں گھروں میں سولر پینلز کے ساتھ توانائی محفوظ کرنے کا محفوظ ترین اور پائیدار ذریعہ بن سکتی ہیں، جو نسل در نسل ایک ہی گھر کو بجلی فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

اس کے علاوہ قومی گرڈ اسٹیشنز پر ونڈ اور سولر انرجی کے بڑے اسٹوریج کے لیے یہ ٹیکنالوجی انتہائی سستی اور ماحول دوست ثابت ہوگی۔

اپنے طویل چارج سائیکل کی بدولت یہ اسمارٹ فونز، ہینڈ ہیلڈ گیمنگ ڈیوائسز اور دیگر گیجٹس کی بیٹری ہیلتھ گرنے کے مسئلے کو ہمیشہ کے لیے ختم کر سکتی ہے۔

ماحول دوست اور باآسانی ٹھکانے لگانے کی سہولت:

زہریلے اور نایاب کیمیکلز سے پاک ہونے کی وجہ سے ان واٹر بیٹریوں کو باآسانی ری سائیکل کیا جا سکتا ہے۔

محققین کے مطابق اپنی طویل ترین مدت پوری کرنے کے بعد اگر اسے عام کچرے میں بھی تلف کر دیا جائے تو اس سے ماحول اور ماحولیاتی نظام کو کوئی خاص نقصان نہیں پہنچے گا۔

Watch Live Public News