ویب ڈیسک: امریکی ریاست نیومیکسیکو کی عدالت نے فیس بک کی مالک کمپنی میٹا کو صارفین کے ذاتی ڈیٹا کے تحفظ اور گمراہ کن بیانات سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی پر 25 ارب ڈالر جرمانہ ادا کرنے کا حکم دے دیا۔
یہ فیصلہ کیمبرج اینالیٹیکا اسکینڈل سے متعلق مقدمے میں سنایا گیا۔ ستمبر 2026 میں جیوری نے قرار دیا تھا کہ فیس بک نے نیومیکسیکو کے صارفین سے متعلق قوانین کی 4 کروڑ 38 لاکھ سے زائد خلاف ورزیاں کیں۔
مقدمے کے مطابق، کیمبرج اینالیٹیکا نے فیس بک کے تقریباً 8 کروڑ 70 لاکھ صارفین کا ذاتی ڈیٹا حاصل کرکے 2016 کے امریکی صدارتی انتخابات کے دوران سیاسی تشہیر اور ووٹرز کی پروفائلنگ کے لیے استعمال کیا تھا۔
نیومیکسیکو نے 2021 میں میٹا کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا۔ ریاستی حکام کا مؤقف تھا کہ کمپنی نے صارفین کو ان کے ذاتی ڈیٹا کے استعمال، تحفظ اور شیئرنگ کے حوالے سے گمراہ کیا۔
میٹا نے عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ فیصلہ کمپنی کے کاروباری طریقہ کار کی غلط عکاسی کرتا ہے۔ کمپنی کے مطابق وہ اپیل میں اپنا دفاع کرے گی۔
یہ فیصلہ ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے صارفین کی نجی معلومات کے تحفظ اور شفافیت سے متعلق ایک اہم قانونی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم، اپیل کے باعث مقدمے میں مزید قانونی کارروائی متوقع ہے۔