ویب ڈیسک: عالمی شہرت یافتہ ادارے ورلڈ اکنامک فورم کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والے ایک تفصیلی مضمون میں پاکستان میں نئے صوبوں کی ممکنہ تشکیل، اختیارات اور وسائل کی نچلی سطح تک منتقلی اور وسیع انتظامی اصلاحات کے حق میں مضبوط دلائل پیش کیے گئے ہیں۔ مضمون کی اہمیت اس بات میں ہے کہ پاکستان میں نئے صوبوں کی بحث کو ایک نمایاں عالمی پلیٹ فارم پر انتظامی کارکردگی، عوامی خدمات، مالی وسائل اور جواب دہی کے تناظر میں پیش کیا گیا۔
مضمون کے مطابق پاکستان کی آبادی 1951 کے مقابلے میں سات گنا سے زیادہ بڑھ چکی ہے، جبکہ ملک اب بھی چار بڑے صوبوں پر مشتمل ہے۔ تقریباً 26 کروڑ آبادی کے لیے موجودہ انتظامی ڈھانچے کی افادیت پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ صوبوں کی اوسط آبادی تقریباً چھ کروڑ بنتی ہے، جس کے باعث عوامی ضروریات پوری کرنے اور سرکاری خدمات کی مؤثر فراہمی میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔
مضمون میں نشاندہی کی گئی ہے کہ اہم انتظامی اختیارات اور فیصلہ سازی بڑی حد تک صوبائی دارالحکومتوں تک محدود رہنے سے عوام اور حکومتی اداروں کے درمیان فاصلہ بڑھ جاتا ہے۔ اس تناظر میں چھوٹی اور بااختیار انتظامی اکائیوں کو حکمرانی بہتر بنانے، فیصلے عوام کے قریب لانے اور منتخب نمائندوں کے احتساب کو مؤثر بنانے کا ممکنہ ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔
پاکستان میں تعلیمی مسائل اور انتظامی اصلاحات کی ضرورت
مضمون میں پاکستان کے تعلیمی شعبے کی صورتِ حال کو بھی انتظامی مسائل سے جوڑا گیا ہے۔ اس کے مطابق پانچ سے 16 سال کی عمر کے تقریباً 28 فیصد بچے اسکولوں سے باہر ہیں، جبکہ بلوچستان میں یہ شرح 45 فیصد بتائی گئی ہے۔ مضمون نگار کے مطابق اضلاع کے درمیان تعلیمی کارکردگی میں نمایاں فرق اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ عوامی خدمات کی فراہمی اور وسائل کی تقسیم کے نظام میں بہتری کی ضرورت ہے۔
مضمون میں مزید کہا گیا ہے کہ بڑھتی ہوئی شہری آبادی، سیلاب اور موسمیاتی تبدیلیوں سے پیدا ہونے والے خطرات کے تناظر میں مضبوط مقامی ادارے اور نچلی سطح پر مؤثر فیصلہ سازی پہلے سے زیادہ اہم ہو چکی ہے۔
ورلڈ اکنامک فورم پر شائع مضمون میں پاکستان کے انتظامی ڈھانچے کی تشکیلِ نو کے مختلف ممکنہ منظرنامے بھی زیرِ بحث لائے گئے ہیں۔ ایک تجویز کے مطابق موجودہ چاروں صوبوں کو چار، چار انتظامی اکائیوں میں تقسیم کرکے مجموعی طور پر 16 اکائیاں قائم کی جا سکتی ہیں۔ اس صورت میں فی اکائی اوسط آبادی تقریباً ڈیڑھ کروڑ ہو سکتی ہے۔
مضمون میں 23 سے 25 صوبائی اکائیوں اور 30 سے زائد انتظامی اکائیوں پر مشتمل نظام کے ممکنہ خاکوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ تاہم یہ تجاویز ہیں، پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام سے متعلق کسی حتمی سرکاری فیصلے کا اعلان نہیں۔
صرف نئے صوبے بنانا کافی نہیں، مالی اختیارات کی منتقلی بھی ضروری
مضمون نگار کے مطابق انتظامی اکائیوں کی تعداد بڑھانے کے ساتھ انہیں واضح آئینی و انتظامی اختیارات، مناسب مالی وسائل اور مؤثر ادارہ جاتی ڈھانچہ فراہم کرنا بھی ضروری ہے۔ محض نئے صوبے قائم کرنے سے عوامی مسائل حل نہیں ہوں گے، جب تک وسائل کی منصفانہ تقسیم، مالی خودمختاری اور مقامی حکومتوں کو حقیقی اختیارات نہ دیے جائیں۔
مضمون میں نائیجیریا، انڈونیشیا اور کینیا کی مثالیں بھی پیش کی گئی ہیں۔ نائیجیریا میں ریاستوں کی تعداد بڑھ کر 36 ہوئی، انڈونیشیا میں صوبوں کی تعداد 27 سے بڑھ کر 38 ہو گئی، جبکہ کینیا نے آٹھ صوبوں کی جگہ 47 منتخب کاؤنٹی حکومتوں کا نظام متعارف کرایا۔
ان مثالوں کی روشنی میں مضمون میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ انتظامی اصلاحات کی کامیابی کے لیے مضبوط اداروں، مالی وسائل کی مؤثر تقسیم اور مقامی حکومتوں کو بااختیار بنانا ناگزیر ہے۔
مجموعی طور پر مضمون میں پاکستان کی بڑھتی ہوئی آبادی اور بدلتی ضروریات کے پیشِ نظر موجودہ صوبائی نظام پر نظرثانی اور انتظامی و مالی اصلاحات کی ضرورت اجاگر کی گئی ہے، تاہم اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ صوبوں کی تعداد میں اضافہ بذاتِ خود بہتر حکمرانی کی ضمانت نہیں۔