نیپال: پرتشدد مظاہرین نے سابق وزیراعظم کی اہلیہ کوآگ لگادی

نیپال: پرتشدد مظاہرین نے سابق وزیراعظم کی اہلیہ کوآگ لگادی
کیپشن: نیپال: پرتشدد مظاہرین نے سابق وزیراعظم کی اہلیہ کوآگ لگادی

ویب ڈیسک: نیپال حالیہ دنوں شدید سیاسی اور سماجی بحران کی لپیٹ میں ہے، جہاں حکومت کے خلاف مظاہروں نے خطرناک صورت اختیار کر لی ہے۔ انہی پُرتشدد واقعات کے دوران ملک کی سابق خاتونِ اول راجیہ لکشمی چترکار جاں بحق ہو گئیں۔

مظاہرین نے ان کے گھر کو نذرِ آتش کر دیا تھا، جس کے نتیجے میں وہ بری طرح جھلس گئیں اور بعدازاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئیں۔

اہلِ خانہ کے مطابق، واقعے کے فوراً بعد انہیں کیرتی پور برن اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے کئی گھنٹے تک ان کی جان بچانے کی کوشش کی لیکن وہ جانبر نہ ہو سکیں۔ مرحومہ سابق وزیرِاعظم جھالناتھ کھنال کی اہلیہ تھیں اور مقامی ذرائع کے مطابق پولیس اس افسوسناک واقعے کی تفتیش کر رہی ہے۔

بین الاقوامی میڈیا، بالخصوص دی مرر کے مطابق، نیپال میں حالیہ مظاہرے اس وقت شروع ہوئے جب حکومت نے گزشتہ ہفتے فیس بک، یوٹیوب سمیت 26 سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا۔ حکومت کے اس فیصلے نے عوام میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی اور مختلف شہروں میں پُرتشدد احتجاج پھوٹ پڑے۔

صورتحال اس قدر سنگین ہو گئی کہ مشتعل مظاہرین نے وزیرِاعظم کے پی شرما اولی کے گھر پر بھی حملہ کر کے اسے آگ لگا دی۔ اس واقعے کے بعد اولی نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے کا اعلان کیا۔ ذرائع کے مطابق اولی نے گزشتہ دنوں تمام سیاسی جماعتوں کو مذاکرات کی دعوت بھی دی تھی تاکہ بڑھتی ہوئی بدامنی پر قابو پایا جا سکے، تاہم مظاہروں میں شدت برقرار ہے۔

سیاسی ماہرین کے مطابق نیپال اس وقت ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے جہاں حکومتی فیصلوں، عوامی غصے اور سیاسی کشمکش نے حالات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ عوامی حلقوں میں یہ سوال شدت سے اٹھ رہا ہے کہ آیا حکومت سوشل میڈیا پر عائد پابندی ہٹائے گی یا نہیں۔

راجیہ لکشمی چترکار کی ہلاکت نے نہ صرف نیپال بلکہ دنیا بھر میں دکھ اور افسوس کی لہر دوڑا دی ہے، اور اس نے یہ حقیقت اجاگر کی ہے کہ سیاسی فیصلے جب عوامی رائے کے برعکس ہوں تو ان کے نتائج انتہائی سنگین ہو سکتے ہیں۔

Watch Live Public News