کل گوجرانوالہ جلسے میں لانگ مارچ کی تاریخ کا اعلان ہوگا، حافظ نعیم الرحمان کا بڑا اعلان 

کل گوجرانوالہ جلسے میں لانگ مارچ کی تاریخ کا اعلان ہوگا، حافظ نعیم الرحمان کا بڑا اعلان 

(ویب ڈیسک ) امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے لاہور میں دھرنے کے شرکاء سے تفصیلی خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے دھرنے ملک بھر کے 35 مقامات پر جاری ہیں، دھرنے دینا کوئی معمولی کام نہیں ہے بلکہ یہ سب حق کے لیے نکلے ہیں اور عوام پیٹرولیم کے خاتمے کے لیے دھرنوں میں بیٹھی ہے۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومت نے عوام پر پیٹرول بم بنانے کا فیصلہ کیا ہوا ہے اور عالمی مارکیٹ کا بہانہ بنا کر پیٹرولیم کی قیمتیں بڑھا رکھی ہیں۔ حکومت کہتی ہے جہاں سے ہم تیل لیتے ہیں وہ یو اے ای کا تیل ہوتا ہے اور وہ 110 ڈالر فی بیرل مل رہا ہے۔ ہم کہتے ہیں قیمتیں اپنی جگہ، لیوی بھتہ کیوں لے رہے ہو؟ لیوی بھتے کا کچا چٹھہ ہم نے حکومت اور میڈیا کے سامنے کھولا ہے۔ لیوی بھتہ کے بارے میں پاکستانیوں کی اکثریت کو معلوم ہی نہیں تھا۔

انہوں نے کہا کہ  یہ کہتے ہیں لیوی نہیں لیں گے تو حکومت کیسے چلائیں گے۔ 1961 کے قانون کے مطابق لیوی بھتہ عوام سے وصول کیا جا رہا ہے، 2022 میں حکومت نے لیوی کا مقصد ہی ختم کر دیا اور 2025 میں مجرمانہ کام کرتے ہوئے لیوی اپنی مرضی سے وصول کرنے کی اجازت دے دی۔ ایک زمانے میں پیٹرول کی قیمتیں کئی سال تک منجمد رہتی تھیں۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہاکہ حکمرانوں نے عوام کو تباہ کر دیا اور بوجھ تلے دبا دیا ہے، جبکہ حکمران اپنی شاہ خرچیاں کم نہیں کرتے۔ طالب علم، کسان، مزدور اور اساتذہ سمیت کوئی بھی لیوی سے نہیں بچا۔ پاکستان میں 40 فیصد سے زائد لوگ خطِ غربت سے نیچے ہیں، اور معاشی گروتھ ریٹ جو 6.5 تھا اسے 0.5 فیصد پر لے آئے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ حکمرانوں نے کسانوں کا بیڑہ غرق کر دیا اور جعلی اسکیمیں نکالتے رہے۔ یوریا دیگر ممالک سے کئی کئی گنا مہنگی بیچی جا رہی ہے اور پنجاب نے کپاس کی فصل آدھی سے بھی کم کر دی ہے۔ مریم نواز اپنے والد کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے بھارت سے پینگیں بڑھا رہی ہیں۔ انہوں نے پنجاب کے 11 ہزار اسکولوں کو بیچ دیا ہے، اور مریم نواز کی کارکردگی یہ ہے کہ نویں جماعت میں پنجاب سے 52 فیصد طلباء فیل ہو گئے۔ نواز شریف کے نام سے چند اسکولز بنا کر ڈرامے بازی کی جا رہی ہے۔ ماضی میں سائنسدان، ماہرین اور ٹاپ کے افراد سرکاری اسکولوں میں پڑھتے تھے لیکن آج معیاری تعلیم کے لیے کوئی بھی بچوں کو سرکاری اسکولز میں نہیں پڑھاتا۔ دوسری جانب پیپلز پارٹی کو جب خطرہ محسوس ہوتا ہے تو وہ لسانی تفریق پھیلا دیتے ہیں۔

امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ حکومت سے ہماری کمیٹی کے مذاکرات کے دو دور ہوئے ہیں۔ حکومت اپنے محکموں سے بات کرنے کے لیے بار بار وقت مانگتی ہے اور ان کے پاس عملاً ہماری ٹیم کا کوئی جواب نہیں ہے۔ لیاقت بلوچ نے کہا کہ حکومت نے پیٹرولیم ڈیپارٹمنٹ اور آئی پی پیز سے بات کے لیے ابھی مزید مہلت اور وقت مانگا ہے۔ ہم نے حکومت کو پہلے ہی 26 دن کا وقت دیا ہے، اب مزید وقت نہیں دے سکتے اور ہم نے کہہ دیا ہے کہ فیصلہ ہو چکا ہے کہ ہم نے اسلام آباد مارچ کرنا ہے۔

حافظ نعیم الرحمان نے مزید کہا کہ آئے روز ہمارے دھرنوں میں اضافہ ہو رہا ہے اور ہمارا دھرنا تاجروں، صنعتکاروں، وکلاء، طلباء، علماء کرام اور سول سوسائٹی کا دھرنا بن چکا ہے۔ ہمارے کارکنوں کے باعث آج میڈیا پر لیوی کے خاتمے کے موضوعات ہیں۔ عوام کا جذبہ دیکھ کر چاہتا ہوں لانگ مارچ کا ابھی اعلان کروں۔ مشاورت کے لیے کل ملک بھر سے جماعت اسلامی کی قیادت کو منصورہ بلایا ہے، کل تین بجے قیادت سے ملاقات میں حتمی تاریخ کا فیصلہ ہو گا اور کل گوجرانوالہ کے جلسے میں لانگ مارچ کی تاریخ کا باضابطہ اعلان کروں گا۔ اگر حکومت کا رویہ درست نہ ہوا تو لانگ مارچ کی کال دوں گا اور جب بھی ہم لانگ مارچ کی کال دیں گے تو حکومت کے بس میں کچھ نہیں رہے گا، ہمارے کارکن ملک بھر سے نکلیں گے اور حکمرانوں کو پیچھے ہٹائیں گے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ آئی پی پیز کی طرح لیوی کے خلاف چلنے والی ہماری تحریک بھی کامیاب ہے۔ جماعت اسلامی نے بیانیے میں حکمرانوں کو شکست دے دی ہے اور ہماری مخالفت کرنے والوں کے پاس بھی کوئی دلیل نہیں ہے۔ 26 دن کے دھرنوں نے پاکستان کی سیاست کے رنگ بدل دیے ہیں، تمام لوگ پرعزم رہیں کیونکہ راستے نکلتے جا رہے ہیں۔

Watch Live Public News