مقبوضہ جموں و کشمیر میں 2019 سے یومِ شہداء کی سرکاری تقاریب اور عام تعطیل پر مودی سرکار کی جانب سے مکمل پابندی عائد

مقبوضہ جموں و کشمیر میں 2019 سے یومِ شہداء کی سرکاری تقاریب اور عام تعطیل پر مودی سرکار کی جانب سے مکمل پابندی عائد
کیپشن: مقبوضہ جموں و کشمیر میں 2019 سے یومِ شہداء کی سرکاری تقاریب اور عام تعطیل پر مودی سرکار کی جانب سے مکمل پابندی عائد

ویب ڈیسک: مقبوضہ جموں و کشمیر میں 2019 سے یومِ شہداء کی سرکاری تقاریب اور عام تعطیل پر مودی سرکار کی جانب سے مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔  13 جولائی کو منایا جانے والا یومِ شہداءِ کشمیر اُن 22 کشمیری مسلمانوں کی یادگار ہے جنہیں 1931 میں ڈوگرہ ملوکیت کی افواج نے سرینگر سنٹرل جیل کے باہر احتجاج کے دوران بے دردی سے شہید کر دیا تھا۔

ڈوگرہ حکمران مہاراجہ ہری سنگھ کے دورِ حکومت میں مسلم اکثریتی آبادی کو شدید معاشی استحصال اور مذہبی امتیازی سلوک کا سامنا تھا۔ یہ تناؤ اس وقت عروج پر پہنچ گیا جب عبدالقدیر نامی شخص کو غاصبانہ راج کے خلاف ایک انقلابی تقریر کرنے کے جرم میں غداری کے الزام کے تحت گرفتار کر لیا گیا۔ 13 جولائی 1931 کو ہزاروں کشمیری مسلمان عبدالقدیر سے یکجہتی کے لیے سنٹرل جیل سرینگر کے باہر جمع ہوئے۔ جیسے ہی ظہر کی نماز کا وقت ہوا، ایک نوجوان کشمیری نے اذان دینے کے لیے کھڑے ہونے کی جرات کی، جسے ڈوگرہ گورنر کے حکم پر سپاہیوں نے گولی مار کر شہید کر دیا۔ اس وحشیانہ اقدام کے خلاف بے مثال جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے، ایک اور مظاہرین اذان کو وہیں سے جاری رکھنے کے لیے آگے بڑھا اور وہ بھی گولی کا شکار ہو گیا۔ یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہا جب تک 22 کشمیریوں نے جامِ شہادت نوش نہ کر لیا جنہیں صرف ایک اذان کو خاموش کرنے کے لیے یکے بعد دیگرے نشانہ بنایا گیا۔ ایک دور میں یہ دن جمہوری و شہری حقوق کی بنیادی جدوجہد کی علامت کے طور پر ایک باقاعدہ سرکاری تعطیل تھا، جسے اگست 2019 میں بھارتی حکومت کی جانب سے آرٹیکل 370 کی یکطرفہ منسوخی کے بعد سرکاری کیلنڈر سے زبردستی خارج کر دیا گیا۔
مقبوضہ جموں و کشمیر میں 1931 کے 22 شہداء کی یاد میں منایا جانے والا یومِ شہداء سرکاری کیلنڈر سے خارج کر دیا گیا ہے، اور مزارِ شہداء کو بھاری رکاوٹیں اور خاردار تاریں لگا کر مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے۔
 تاریخ خود کو دہرا رہی ہے کیونکہ موجودہ بھارتی سیکیورٹی فورسز نے بھی ڈوگرہ دور کے جابرانہ ہتھکنڈوں کو اپنا لیا ہے، جس کے تحت مقبوضہ وادی میں سویلین آبادی کے خلاف منظم کریک ڈاؤن کو مزید تیز کر دیا گیا ہے۔
1931 کا قتلِ عام مزاحمت کی ایک لازوال اور انمٹ علامت ہے، جہاں 22 سرفروشوں نے ریاستی جبر و استبداد کے سامنے صرف اسلام کی آواز (اذان) کو مکمل کرنے کے لیے یکے بعد دیگرے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔
دہائیوں پر محیط مسلسل تنازعے کے نتیجے میں اب تک 96 ہزار سے زائد کشمیری شہید ہو چکے ہیں، جس کے باعث 22 ہزار سے زائد خواتین بیوہ، 1 لاکھ 5 ہزار سے زائد بچے یتیم ہوئے اور جنسی تشدد کے 10 ہزار سے زائد واقعات دستاویزی طور پر ریکارڈ کیے گئے۔
 کشمیریوں کے عوامی جذبات کو دبانے اور کسی بھی بڑے احتجاجی اجتماع کو روکنے کے لیے حریت قیادت اور سابق وزرائے اعلیٰ، بشمول عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی کو معمول کے مطابق پیشگی گھروں میں نظربند کر کے ان کے دروازوں پر زنجیریں لگا دی جاتی ہیں۔
مقبوضہ جموں و کشمیر 9 لاکھ سے زائد قابض سیکیورٹی اہلکاروں کی تعیناتی کے ساتھ دنیا کا سب سے بڑا اور گنجان ترین فوجی زون بن چکا ہے، جہاں معلومات کے پھیلاؤ کو سختی سے کنٹرول کرنے کے لیے اچانک کرفیو اور بار بار انٹرنیٹ کی بندش کا سہارا لیا جاتا ہے۔
آزاد صحافت پر قدغن لگانے کے لیے مقبوضہ وادی میں سخت ترین اور ظالمانہ میڈیا پالیسی نافذ ہے، جس نے انسانی حقوق کی آزادانہ رپورٹنگ کو باقاعدہ جرم بنا دیا ہے اور مقامی خبر رساں اداروں کو اداریوں کی مکمل بندش پر مجبور کر دیا ہے۔
مقبوضہ وادی میں انسانی حقوق کے محافظوں، وکلاء اور سیاسی کارکنوں کو سیکیورٹی فورسز کی جانب سے یو اے پی اے (UAPA) جیسے انسدادِ دہشت گردی کے کالے قوانین کے اندھا دھند اطلاق کے تحت بغیر کسی ٹرائل کے غیر معینہ مدت کے لیے قید رکھنے کا سلسلہ جاری ہے۔
آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ (AFSPA) کے مسلسل نفاذ کے باعث قابض فورسز کو مقبوضہ وادی میں دورانِ حراست اموات پر سویلین عدالتوں میں مقدمات اور کسی بھی قسم کے فوجداری ٹرائل سے مکمل اور مطلق قانونی استثنیٰ حاصل ہے۔
دہائیوں سے جاری مسلسل فوجی محاصرے، ہر لمحہ کڑی نگرانی اور سیکیورٹی اداروں کے احتساب کے فقدان نے کشمیریوں کی کئی نسلوں کو شدید نفسیاتی صدمات سے دوچار کر کے ذہنی صحت کا ایک سنگین بحران پیدا کر دیا ہے۔
آرٹیکل 370 اور 35 اے کی منسوخی کے بعد لاکھوں غیر مقامی افراد کو ڈومیسائل سرٹیفکیٹ کا اجراء جنیوا کنونشن کے چوتھے معاہدے کے آرٹیکل 49 شق 6 کی کھلی خلاف ورزی ہے، جس کا مقصد وادی کے آبادیاتی تناسب کو یکسر تبدیل کرنا ہے۔
تجاوزات کے خاتمے کی آڑ میں چلائی جانے والی زبردستی کی مہم کے ذریعے مقامی آبادی کو ان کی آبائی زمینوں کی ملکیت سے محروم کیا جا رہا ہے، جبکہ انتخابی حلقوں کی نئی حد بندی کر کے غیر مقامی افراد کو بطور ووٹر رجسٹر کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔
مقامی معیشت کو اپاہج کرنے کے لیے کشمیریوں کے روایتی تجارتی شعبوں، بشمول زراعت، سیب کے باغات اور مقامی دستکاری کو دانستہ طور پر نشانہ بنا کر وادی کی صدیوں پرانی تجارتی خودمختاری اور خود انحصاری کو مفلوج کر دیا گیا ہے۔
بھارت کی یہ یکطرفہ قانون سازی اور انتظامی تبدیلیاں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعدد قراردادوں، بشمول قرارداد نمبر 47، 91 اور 122 کی براہِ راست اور سنگین خلاف ورزی ہیں، جو خطے کے حتمی فیصلے کے لیے آزادانہ اور غیر جانبدارانہ رائے شماری کا تقاضا کرتی ہیں۔

Watch Live Public News