(ویب ڈیسک) دنیا کے معروف ترین ارب پتی اور ای کامرس جائنٹ ایمازون کے بانی جیف بیزوز نے آرٹی فیشل انٹیلی جنس (AI) کے مستقبل اور کام کی دنیا پر اس کے اثرات کے حوالے سے ایک حیران کن اور مثبت پیشگوئی کی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کی مدد سے انسان کم وقت کام کر کے بھی ماضی سے کہیں زیادہ منافع اور آمدنی حاصل کر سکے گا۔
امریکی میڈیا کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں جیف بیزوز نے کہا کہ اے آئی ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی کے باعث مستقبل میں ملازمین کو ہفتے میں محض 3 دن یا روزانہ صرف چند گھنٹے کام کرنا پڑے گا۔اس کے باوجود ان کی آمدنی اتنی پرکشش اور مناسب ہوگی کہ وہ اپنے خاندان کی بہترین انداز میں کفالت کر سکیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ گھر کے صرف ایک فرد کی کمائی پورے کنبے کے تمام تر اخراجات باآسانی اٹھانے کے لیے کافی ثابت ہوگی۔
ایمازون کے بانی نے واضح کیا کہ مصنوعی ذہانت کی مدد سے کاروباری اداروں اور کمپنیوں کی پیداواری صلاحیت بے پناہ بڑھ جائے گی، جس سے کمپنیاں کم وسائل اور کم وقت میں پہلے سے کہیں زیادہ مصنوعات اور خدمات تیار کر سکیں گی۔
جیف بیزوز نے اس عام تاثر کو یکسر مسترد کر دیا کہ اے آئی انسانوں کی نوکریاں چھین لے گی یا بیروزگاری کا سیلاب لائے گی۔
ان کے خیال میں یہ ٹیکنالوجی عام آدمی کا معیارِ زندگی (Quality of Life) بلند کرے گی اور انسان کو مشقت سے نجات دلا کر فرصت کے لمحات فراہم کرے گی۔
انہوں نے ایک دلچسپ نکتہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ بیروزگاری کے بجائے مستقبل میں کارپوریٹ سیکٹر کو ممکنہ طور پر افرادی قوت (ورک فورس) کی کمی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، کیونکہ لوگ مالی خودمختاری کے بعد اپنی مرضی سے کم دن اور کم وقت کام کرنے کو ترجیح دیں گے۔
جیف بیزوز نے اعتراف کیا کہ ہفتے میں 3 دن کے ورکنگ ماڈل کی پیشگوئی راتوں رات پوری نہیں ہوگی، بلکہ اس تبدیلی کی رفتار کا دارومدار مارکیٹ میں معاوضوں کی شرح، کام کے اوقات اور اوسط گھریلو آمدنی کے توازن پر ہوگا۔