ویب ڈیسک: بھارت کی ریاست جھاڑکھنڈ کے ضلع دھنباد میں قائم نجی اسکول کو اِس وقت تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جہاں کی خاتون پرنسپل نےامتحانات کے آکری دن پارٹی کرتی طالبات پر غصہ نکال دیا اور انتہائی شرمناک حرکت کرڈالی۔
بھارتی میڈیا کے مطابق اسکول پرنسپل کی جانب سے اسکول کی طالبات کے ساتھ شرمناک حرکت کی گئی۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ پرنسپل نے مبینہ طور پر دسویں جماعت کی طالبات کو نیم برہنہ حالت میں اسکول چھوڑنے پر مجبور کیا۔
یہ واقعہ جمعرات کو ”پین ڈے“ کی تقریب کے دوران پیش آیا، جو طلباء کے امتحان کا آخری دن تھا۔ جہاں خوشی کےاظہار کے ایک حصے کے طور پر طلباء نے ایک دوسرے کی یونیفارم شرٹس پر مختلف پیغامات درج کیے۔ تقریب میں 100 کے قریب طالبات نے شرکت کی۔
تاہم، پرنسپل کو طالبات کی یہ سرگرمی پسند نہیں آئی۔ پارٹی منانے پر اسکول کی 10 طالبات کو پرنسپل نے مبینہ طور پرانہیں نیم برہنہ حالت میں گھر واپس جانے کو کہا۔
واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کردی گئی، کئی طالبات نے اپنے والدین کو شکایت کی، کئی والدین کو پرنسپل کی شرمناک حرکت میں غصہ آیا جس کے بعد والدین علاقے کے ڈپٹی کمشنر کے دفتر پہنچ گئے اور سکول پرنسپل کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔
رپورٹ کے مطابق مقامی قانون ساز راگنی سنگھ نے والدین کو اسکول پرنسپل کیخلاف کاروائی کا یقین دلایا اور اس واقعے کو شرمناک“ قرار دیا۔
راگنی سنگھ نے کہا ایک خاتون کے طور پر نوجوان لڑکیوں کے ساتھ اس طرح کا سلوک شرمناک بات ہے۔ انتظامیہ اس معاملے میں انصاف کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔
متعدد طلباء نے اس دن کو زندگی کا ’خطرناک‘ ترین دن قرار دیا۔