(ویب ڈیسک ) ایران کے ڈیجیٹل بلیک آؤٹ نے اب فوجی جیمرز کے ذریعے اسٹارلنک انٹرنیٹ تک رسائی بھی بند کر دی ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق یہ منظر پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا۔ ایران کے ڈیجیٹل بلیک آؤٹ نے اب فوجی جیمرز کے ذریعے اسٹارلنک انٹرنیٹ تک رسائی بھی بند کر دی ہے۔
ایران وائر کے مطابق، “اس بات کے باوجود کہ ایران کے اندر دسیوں ہزار اسٹارلنک یونٹس کے فعال ہونے کی اطلاعات ہیں، بلیک آؤٹ نے سیٹلائٹ کنیکشنز کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ابتدا میں اسٹارلنک کے اپ لنک اور ڈاؤن لنک ٹریفک کا تقریباً 30 فیصد متاثر ہوا، جو چند ہی گھنٹوں میں بڑھ کر “80 فیصد سے زیادہ” تک پہنچ گیا۔
اسرائیلی اخبار کا کہنا ہے کہ اسٹارلنک ریسیورز سیٹلائٹس سے جڑنے کے لیے GPS پر انحصار کرتے ہیں۔گزشتہ جون میں اسرائیل کے ساتھ 12 روزہ جنگ کے بعد سے ایران GPS سگنلز میں خلل ڈال رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں بندشیں مخصوص علاقوں تک محدود ہو گئی ہیں، جس سے اسٹارلنک کنیکٹیوٹی ایک پیچ ورک کی شکل اختیار کر گئی ہے—کچھ نمایاں علاقوں میں تقریباً مکمل بلیک آؤٹ دیکھنے میں آیا ہے۔
میاں گروپ(Miaan Group) کے امیر رشیدی نے ٹیک ریڈار کو بتایا، “میں گزشتہ 20 برس سے انٹرنیٹ تک رسائی کی نگرانی اور تحقیق کر رہا ہوں، اور میں نے اپنی زندگی میں ایسا کبھی نہیں دیکھا۔” اسٹارلنک ڈیٹا پیکٹس میں اچانک کمی کی نگرانی زمینی رپورٹس کی تصدیق کرتی ہے کہ سیٹلائٹ کنیکٹیوٹی شدید متاثر ہوئی ہے۔
سائمن مگلیانو، جنہوں نے حالیہ انٹرنیٹ شٹ ڈاؤنز پر ایک جامع رپورٹ تیار کی ہے، کا کہنا ہے کہ “یہ ‘کل سوئچ’ حکمتِ عملی ہر گھنٹے ایران کی معیشت سے تقریباً 15 لاکھ 60 ہزار ڈالر نکال رہی ہے۔”
ادھر نیٹ بلاکس کی رپورٹ کے مطابق “ ایران کا انٹرنیٹ بلیک آؤٹ اب 60 گھنٹوں سے تجاوز کر چکا ہے، اور قومی سطح پر کنیکٹیوٹی معمول کی سطح کے محض 1 فیصد کے قریب منجمد ہو کر رہ گئی ہے۔”