ویب ڈیسک: ایران میں اپریل کے دوران طیارہ گرائے جانے کے بعد امریکی فضائیہ کے پائلٹ نے پہلی بار خطرناک ریسکیو آپریشن اور اپنی بقا کی تفصیلات بیان کردیں۔
سی بی ایس کے پروگرام ’60 منٹس‘ میں ’براوو‘ کے فرضی نام سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی اہلکار نے بتایا کہ ایف-15 طیارہ نشانہ بننے کے بعد اس کا پیراشوٹ متاثر ہوگیا اور وہ تیزی سے زمین کی جانب گرنے لگا۔ اس نے پیراشوٹ کے حصے کھولنے کی ہر ممکن کوشش کی، تاہم اس کی کمر، بازو اور کندھا زخمی ہوگئے جبکہ ٹخنے اور چہرے پر بھی چوٹیں آئیں۔
طیارے سے باہر نکلنے کے بعد ’براوو‘ ایرانی فورسز کی گرفتاری سے بچنے کے لیے پہاڑی علاقے میں چھپ گیا۔ زخمی حالت میں اس نے تقریباً 7 ہزار فٹ بلند پہاڑی چوٹی تک سفر کیا اور کئی گھنٹے ایک دراڑ میں چھپا رہا۔

دوسرے امریکی اہلکار، جو طیارے کے پائلٹ تھے، کو حادثے کے کچھ ہی دیر بعد بازیاب کرلیا گیا، تاہم ’براوو‘ تقریباً 50 گھنٹے بعد ریسکیو کیا گیا۔
امریکی حکام کے مطابق ریسکیو آپریشن میں سیکڑوں فوجی اور انٹیلی جنس اہلکار شامل تھے، جن میں اسپیشل آپریشنز فورسز بھی شامل تھیں۔ امریکی فوج نے آپریشن کے دوران تباہ ہونے والے دو خصوصی طیاروں کو ایرانی فورسز کے ہاتھ لگنے سے روکنے کے لیے دھماکے سے تباہ کردیا۔

رپورٹ کے مطابق تباہ کیے گئے دو امریکی طیاروں کی مجموعی مالیت تقریباً 200 ملین ڈالر تھی، جبکہ متعدد ’لٹل برڈ‘ ہیلی کاپٹر بھی تباہ کیے گئے۔
’براوو‘ نے بتایا کہ جب اسے ریسکیو کرنے والے اہلکار پہاڑی پر پہنچے تو وہ لمحہ اس کی زندگی کے بہترین لمحات میں سے ایک تھا۔ اس نے ریسکیو ٹیم کے لیے اظہارِ تشکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کی کوششوں کو کبھی نہیں بھولے گا۔

دونوں امریکی اہلکاروں کی شناخت امریکی محکمہ دفاع نے سکیورٹی خدشات کے باعث ظاہر نہیں کی۔