بی بی سی کا بی جے پی راج میں بھارتی ریاست کا ہندوتوا انتہا پسندوں کے سامنے گھٹنے ٹیکنے کا سنسنی خیز انکشاف

  بی بی سی کا بی جے پی راج میں بھارتی ریاست کا ہندوتوا انتہا پسندوں کے سامنے گھٹنے ٹیکنے کا سنسنی خیز انکشاف

(ویب ڈیسک ) بی بی سی کے مطابق مدھیہ پردیش میں لنچنگ کیس میں انصاف دینے پر مسلم خاتون کو ہندوتوا انتہا پسندوں  نے قتل کی دھمکیاں دی،  مسلم خاتون جج تبسم خان کو عمر قید کی سزا سنانے کے چند روز بعد ہی آن لائن ٹرولنگ اور ہراساں کیے جانے کا سامناکرنا پڑ رہا ہے۔

بی بی سی کا کہنا ہے کہ   ٹرولنگ مہم میں AI کے ذریعے بار بار جج کی مسلم شناخت کو نمایاں کر کے انہیں نشانہ بنایا جارہا ہے۔مدھیہ پردیش کی عدالت نے نذیر احمد لنچنگ کیس میں چودہ نام نہاد 'گاؤ رکشکووں' کو عمر قید کی سزا سنائی۔یہ فیصلہ بھارت میں موب لنچنگ کے خلاف قانون کی حکمرانی اور مذہبی سیاست کا اہم امتحان بن گیا۔

 پولیس ریکارڈ کے مطابق 2022 میں نذیر احمد قانونی طور پر مویشی منڈی لے جا رہے تھے۔مسلح انتہا پسند ہجوم نے گاڑی روکی اور نذیر احمد کو بدترین تشدد کے بعد قتل کر دیا۔

بی بی سی کے مطابق بھارتی عدالت نے ٹھوس شواہد کی بنیاد پر تمام چودہ ہندوتوا ملزمان کو عمر قید کی سزا سنائی۔عدالتی فیصلے کے فوراً بعد انتہا پسند انفلوئنسرز نے جج کی مسلم شناخت کو ہتھیار بنا کر کیس کو مذہبی رنگ دے دیا۔ انتہا پسند اکاؤنٹس سے AI گرافکس کے ذریعے مسلم جج کو منظم نفرت انگیز مہم کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

بی بی سی کا کہنا ہے کہ ویڈیو پیغام میں انتہا پسند نے کھلی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ "سزا یافتہ قاتل دس دن میں رہا نہ ہوئے تو ملک بھر میں خونریزی ہوگی۔"   دھمکی آمیز ویڈیوز کو ہزاروں لائکس اور شیئرز مل رہے ہیں، دھمکیاں دینے والوں کے چہرے اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس بالکل واضح ہیں۔

  بی بی سی کے مطابق   گودی میڈیا بھی انتہاپسندوں کی حمایت میں سامنے آگیا۔ متنازع بھارتی میڈیا 'سدرشن نیوز' ایک اینکر  نے سزا یافتہ قاتلوں سے اظہارِ یکجہتی کیا۔  بھارتی اینکر نے ملزمان کو ’’گائے بچانے والے‘‘ قرار دیتے ہوئے ناظرین سے ان کے حق میں آواز اٹھانے کی اپیل کی۔آن لائن نفرت انگیز مہم عملی تشدد میں تبدیل، ہندوتوا ہجوم نے سرِعام خاتون جج کا پتلا جلادیا۔ 

ماہرین کا کہنا ہے کہ  شدت پسند نیٹ ورکس انٹرنیٹ پروپیگنڈے کے ذریعے عدالتوں اور ریاستی مشینری پر دباؤ ڈالتے ہیں۔ 

سپریم کورٹ کے سابق جج مارکنڈے کاٹجو کا کہنا ہے کہ   جج تبسم خان کی عدالتی ساکھ اور اختیار کو ان کی مسلم شناخت سے جوڑ کر کمزور کرنے کی کوشش کی گئی۔   عدالتی فیصلوں کا جائزہ قانونی دلائل کی بنیاد پر ہونا چاہیے، جج کے مذہب کی بنیاد پر نہیں۔

بی بی سی کا کہنا ہے کہ   سپریم کورٹ ایڈووکیٹس آن ریکارڈ ایسوسی ایشن اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن تبسم خان کی حمایت میں سامنے آگئے۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر وکاس سنگھ  نے بیان میں کہا کہ  " جج کو دھمکیاں دینا جمہوریت کے لیے سنگین خطرہ ہے، ایسی صورت میں جج آزادانہ فیصلے نہیں دے سکیں گے۔"

ماہرین کا کہنا ہے کہ   آزاد تنظیموں کے مطابق ڈیجیٹل پلیٹ فارمز بھارت میں مسلمانوں کے خلاف موب لنچنگ کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔  فوجداری قتل مقدمے کو مذہبی جنگ بنانا ہندوتوا بلوائیوں کو احتساب سے بچانے کی دانستہ حکمتِ عملی ہے۔ بھارت میں مسلمانوں کے خلاف غیر انسانی زبان اور سازشی بیانیے خطرناک حد تک بڑھ چکے ہیں۔

اجتماعی مظالم کے خطرات پر نظر رکھنے والی تنظیموں نے بھی ان سنگین خدشات کی تائید کی۔ بین الاقوامی تنظیم 'جینوسائیڈ واچ' نے بھارت میں مسلمانوں کی نسل کشی کے بڑھتے ہوئے خطرات پر بارہا خبردار کیا۔

جینوسائیڈ واچ نے مسلم مخالف نفرت انگیز تقاریر اور تشدد کی کھلی کالز کو بھارت کے لیے خطرناک ترین عوامل قرار دیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ  ہندوتوا مہم میں بار بار جج کی مسلم شناخت کو نمایاں کر کے انہیں نشانہ بنایا گیا۔ عدالتی فیصلے کو ہندو اکثریت کے خلاف ایک فرقہ وارانہ سازش کے ثبوت کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی گئی۔یہ مہم اس وسیع ہندوتوا رجحان کا حصہ ہے جس میں مسلمانوں سے متعلق عدالتی فیصلوں کو فرقہ وارانہ رنگ دیا جاتا ہے۔

Watch Live Public News