روس۔یوکرین جنگ میں بھارت کا منافقانہ دوہرا کھیل، امن کا دعویدار بن کر منافع کی خاطر اپنے ہی شہریوں کی قربانی

روس۔یوکرین جنگ میں بھارت کا منافقانہ دوہرا کھیل، امن کا دعویدار بن کر منافع کی خاطر اپنے ہی شہریوں کی قربانی

(ویب ڈیسک ) بھارت کی ’’اسٹریٹیجک خودمختاری‘‘ دراصل کھلی موقع پرستی اور اپنے ہی شہریوں کے استحصال کا مظہر ہے۔

217 بھارتی شہریوں کو سول ملازمتوں، باورچی اور سیکیورٹی گارڈ کی نوکریوں کے جھوٹے وعدوں کے ذریعے دھوکہ دے کر روسی فوجی خدمت میں دھکیل دیا گیا۔

جن میں سے 139 افراد کو رہا یا فارغ کیا گیا، 49 کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی، 6 لاپتہ ہیں، 26 خاندانوں نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا، جبکہ صرف 8 افراد کی باقیات ڈی این اے شناخت کے بعد وطن واپس لائی جا سکیں۔

نئی دہلی منافع کے لیے ہر فریق کے ساتھ کھیل کھیلتا ہے۔

اس نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں، بشمول فروری 2022 کی اہم ووٹنگ، روس کے حق میں بالواسطہ تحفظ فراہم کیا، جبکہ ڈھائی سال تک رعایتی نرخوں پر روسی تیل خریدنے والا سب سے بڑا خریدار بھی بن گیا۔

مالی سال 2024-25 میں دوطرفہ تجارت 68.7 ارب ڈالر تک پہنچ گئی، جبکہ 2030 تک اسے 100 ارب ڈالر تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

دسمبر 2025 میں ولادیمیر پیوٹن کا نئی دہلی میں شاندار استقبال کیا گیا۔اسی دوران بھارت مغرب اور امریکہ کے ساتھ بھی تعلقات مضبوط کرتا رہا، جس کے لیے نریندر مودی کے کیف کے دورے، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں منتخب انداز میں ووٹنگ، اور ثالثی کے دعوے استعمال کیے گئے۔

وہ ایک طرف پیوٹن کے سامنے اپنے شہریوں کے مسائل اٹھاتا ہے، جبکہ دوسری جانب توانائی اور دفاعی شعبوں میں اپنے منافع بخش تعلقات بدستور برقرار رکھتا ہے۔

بھارت خود کو قابلِ اعتماد امن کا داعی ثابت نہیں کر سکتا۔ اس کا دوہرا کھیل، موقع پرستی اور ہر فریق سے فائدہ اٹھانے کی پالیسی اس کی گہری منافقت کو بے نقاب کرتی ہے۔

49 ہلاک ہونے والے بھارتی شہری اس کی قیمت کا ثبوت ہیں، نئی دہلی اپنے ہی کمزور شہریوں کو تیل پر رعایت، تجارتی فوائد اور جغرافیائی سیاسی مفادات کے لیے بے رحمی سے استعمال کرتا ہے۔ یہ سفارت کاری نہیں بلکہ اپنے ہی عوام سے غداری ہے۔

Watch Live Public News