ایران اور اسرائیل کے درمیان حملوں میں شدت، تل ابیب، تہران سمیت مختلف علاقوں میں دھماکے

ایران اور اسرائیل کے درمیان حملوں میں شدت، تل ابیب، تہران سمیت مختلف علاقوں میں دھماکے
کیپشن: ایران اور اسرائیل کے درمیان حملوں میں شدت، تل ابیب، تہران سمیت مختلف علاقوں میں دھماکے

ویب ڈیسک: نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے بیان کے بعد ایران نے اسرائیل پر شدید بمباری کرتے ہوئے تل ابیب کے مرکزی علاقوں اور امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق ایرانی حملوں کے بعد اسرائیل کے بن گوریان ایئرپورٹ پر افراتفری پھیل گئی۔ افراتفری کے دوران ایئرپورٹ پر موجود افراد اور عملے کے درمیان تلخ کلامی اور ہاتھا پائی بھی ہوئی جبکہ بعض افراد نے کاؤنٹر پر کھڑے عملے پر اشیاء بھی پھینکیں۔

ادھر لبنان پر اسرائیلی حملوں میں مزید 8 افراد جاں بحق ہو گئے۔ اطلاعات کے مطابق 2 مارچ سے جاری حملوں میں جاں بحق افراد کی مجموعی تعداد 687 تک پہنچ گئی ہے جن میں 90 سے زائد بچے بھی شامل ہیں۔

اسرائیل نے لبنان کے ساتھ ساتھ ایران پر بھی نئے اور وسیع پیمانے پر حملے شروع کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق رات گئے تہران اور دیگر شہروں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔

عراق میں ایک ڈرون حملے کے نتیجے میں فرانس کا ایک فوجی ہلاک ہو گیا جبکہ کئی دیگر زخمی ہوئے۔ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے بھی اس حملے میں فرانسیسی فوجیوں کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔

ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ بحرین کے دارالحکومت منامہ کے علاقے مینا سلمان میں قائم امریکی بحری اڈے پر میزائلوں اور ڈرونز سے حملہ کیا گیا۔ بیان کے مطابق حملوں میں اینٹی ڈرون دفاعی نظام، ڈرون ذخیرہ گاہیں، مرمت کے مراکز اور ایندھن کے ٹینکوں سمیت مختلف تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔

پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں امریکی فوجی تنصیبات کو نقصان پہنچا تاہم اس حوالے سے امریکی حکام کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

دوسری جانب ایران کی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ عراق میں امریکی ایندھن بردار طیارہ مزاحمتی فورسز نے مار گرایا جس میں سوار تمام اہلکار ہلاک ہو گئے۔ اس سے قبل امریکی سینٹرل کمانڈ نے بھی مغربی عراق میں ایک امریکی طیارہ گرنے کی تصدیق کی تھی اور بتایا تھا کہ ایک ایندھن بردار طیارہ گر گیا جبکہ دوسرا بحفاظت لینڈ کرنے میں کامیاب رہا۔

ادھر اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ایران میں حکومتی بنیادی ڈھانچے اور جوہری پروگرام سے متعلق اہم مقامات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اسرائیلی حکام کے مطابق تہران کے قریب طالقان کے علاقے میں واقع ایک مقام پر جنگی طیاروں نے حملہ کیا۔

اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے برائے اطفال نے کہا ہے کہ جنگ کے آغاز سے اب تک خطے میں 1100 سے زائد بچے یا تو ہلاک ہوئے یا زخمی ہوئے ہیں۔ ادارے کے مطابق ان میں 200 بچے ایران، 91 لبنان، 4 اسرائیل اور ایک بچہ کویت میں ہلاک ہوا۔

دوسری جانب سعودی عرب کی وزارت دفاع کے ترجمان نے بتایا ہے کہ ملک کے مشرقی علاقے میں فضائی دفاعی نظام نے مزید 10 ڈرونز کو تباہ کر دیا ہے اور کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔

Watch Live Public News