(ویب ڈیسک) کشمیر میڈیا سروس ( کے ایم ایس) کے مطابق سری نگر، بڈگام، بارہمولہ، بانڈی پورہ، گاندربل اور پلوامہ میں نماز جمعہ کے بعد فلسطین اور ایران سے اظہارِ یکجہتی کیا گیا۔
کے ایم ایس کا کہنا ہے کہ بی جے پی کی مسلط کردہ انتظامیہ کی پابندیاں ہوا ہو گئیں، عوام سڑکوں پر امڈ آئے۔بھارتی فورسز کی سخت پابندیوں کے باوجود نماز جمعہ کے بعد بھرپور احتجاج کیا گیا۔
کشمیریوں نے دوٹوک پیغام دیا کہ فلسطین اور ایران کے ساتھ کھڑے ہیں، اسرائیلی جارحیت نامنظور ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کا کہنا ہے کہ لاکھوں کشمیری بھارت کی اسرائیل نواز پالیسیوں کے خلاف سراپا احتجاج ہیں ،قابض انتظامیہ نے جامع مسجد سری نگر بند کر دی، نمازیوں کو عبادت سے روک دیا گیا۔ قابض حکام نے میرواعظ عمر فاروق کو گھر میں نظر بند کر دیا اور جامع مسجد کے دروازے ہر طرف سے بند کردیے۔
میر واعظ عمر فاروق نے کہا کہ ساتویں سال بھی جمعۃ الوداع پر جامع مسجد بند کر کے مذہبی آزادی سلب کی گئی۔
انجمن اوقاف جامع مسجد نے کہا کہ جمعۃ الوداع پر مسجد کی بندش کشمیری مسلمانوں کے مذہبی حقوق پر کھلا حملہ ہے،۔
مقبوضہ کشمیر میں ایران پر امریکی حملے کے آغاز سے احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔بھارتی فورسز نے مظاہروں کو روکنے کیلئے وادی بھر میں رکاوٹیں، انٹرنیٹ پابندیاں اور بھاری نفری تعینات کی۔