ویب ڈیسک: طالبان رجیم کے سنگین انسانی جرائم اورخواتین پرمظالم کے حوالے سے بلوچستان اور آزادکشمیرکے عوام کاشدید ردعمل سامنے آگیا ہے۔
طالبان رجیم کی سرپرستی میں سنگین انسانی جرائم اورخواتین پر مظالم باعث تشویش ہیں۔
بلوچستان اور آزادکشمیر کی عوام کا افغان رجیم میں خواتین سے نارواسلوک پرکہنا ہےکہ افغانستان میں جب بھی طالبان کی حکومت آئی خواتین پر پابندیاں لگائی گئیں۔ افغانستان میں خواتین کو بےحد مشکلات درپیش ہونے کے باعث سماجی ڈھانچہ شدید متاثر ہو رہا ہے۔ بھارت افغانستان کو خطے میں دہشتگردی اور عدم استحکام کیلئے پراکسی کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔
افغانستان میں سول سوسائٹی پر دباؤ اورآزادی اظہار پرقدغن نے افغان طالبان کو عالمی تنہائی کا شکار کر دیا۔ افغان رجیم کے زیراثرافغانستان میں خواتین کے سماجی حقوق شدیدمتاثر ہورہےہیں۔ خواتین کی ملازمت اور نقل وحرکت پرپابندیوں کے باعث وہ معاشرے میں اپنا مؤثرکردارادا کرنے سے محروم ہو چکی ہیں۔ افغانستان میں نہ صرف خواتین بلکہ عام شہری بھی طالبان کے دباو اورانتہاپسندی سے تنگ ہیں۔
عالمی ماہرین کے مطابق طالبان رجیم انسانی حقوق کی بدترین پامالیوں میں ملوث ہےجس پر عالمی انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی تشویش کااظہار کرچکی ہیں۔ طالبان رجیم افغان عوام کی نمائندہ نہیں ہے کیونکہ اس میں خواتین کی نمائندگی موجود نہیں ہے۔ افغان طالبان رجیم دہشتگردوں کی سرپرستی اورانسانی حقوق کی پامالی کےباعث عالمی تنہائی کا شکارہے۔