مریخ پر مکڑی کے جالے جیسی پراسرار ساختیں دریافت: ناسا کے کیوروسٹی روور نے نئی تاریخ رقم کر دی

مریخ پر مکڑی کے جالے جیسی پراسرار ساختیں دریافت: ناسا کے کیوروسٹی روور نے نئی تاریخ رقم کر دی

(ویب ڈیسک): امریکی خلائی ادارے ناسا کے کیوروسٹی (Curiosity) روور نے مریخ کی سطح پر مکڑی کے جالے جیسی منفرد اور حیران کن ساختوں کی انتہائی تفصیلی تصاویر کھینچی ہیں، جس نے سائنسدانوں کو سرخ سیارے پر قدیم دور میں زندگی کی موجودگی کے حوالے سے نئی امید دلائی ہے۔

ارضیاتی طور پر "باکس ورک" (Boxwork) کہلانے والی یہ ساختیں جب مدار (Orbit) سے دیکھی جاتی ہیں تو ایک وسیع و عریض جالے کی مانند دکھائی دیتی ہیں، جبکہ سطح پر یہ ایک سے دو میٹر اونچی پتھریلی لکیروں اور گڑھوں پر مشتمل ہیں۔ یہ لکیریں میلوں دور تک ایک دوسرے کو کاٹتی ہوئی جالی دار شکل بناتی ہیں۔

سائنسدانوں کے مطابق یہ پیچیدہ نظام اس وقت تشکیل پایا جب مریخ کی چٹانوں کی دراڑوں سے پانی گزرا۔ اس پانی نے وہاں ایسی معدنیات چھوڑیں جو وقت کے ساتھ سخت چٹانوں کی شکل اختیار کر گئیں، جبکہ اردگرد کی نرم مٹی اور مواد موسمی کٹاؤ کی وجہ سے اڑ گیا۔

کیوروسٹی روور نے یہ تفصیلی تصاویر گیل کریٹر (Gale Crater) میں واقع ماؤنٹ شارپ پر چڑھائی کے دوران اپنے جدید ماسٹ کیم (Mastcam) کی مدد سے محفوظ کیں، جنہیں سائنسدان طویل عرصے سے مدار کے ذریعے مانیٹر کر رہے تھے۔

مشن کی خاتون سائنسدان ٹینا سیگر کے مطابق پہاڑ کی اتنی بلندی پر باکس ورک کا ملنا ظاہر کرتا ہے کہ مریخ پر زیرِ زمین پانی کی سطح ماضی میں غیر معمولی طور پر کافی اونچی رہی تھی۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ مریخ پر زندگی کو پروان چڑھانے کے لیے درکار مائع پانی اس سے کہیں زیادہ طویل عرصے تک موجود رہا جتنا سائنسدان پہلے اندازہ لگا رہے تھے۔

سائنسدانوں کو امید ہے کہ ان باریک اور پیچیدہ ساختوں کے تفصیلی تجزیے سے یہ واضح کرنے میں بڑی مدد ملے گی کہ مریخ پر پانی کتنے لاکھ سال تک موجود رہا اور آیا وہاں کبھی خوردبینی حیات نے جنم لیا تھا یا نہیں۔

Watch Live Public News