پانی کو ہتھیار بنانا: بھارت میں مودی حکومت کی تقسیم کرو اور حکومت کرو کی پالیسی

پانی کو ہتھیار بنانا: بھارت میں مودی حکومت کی تقسیم کرو اور حکومت کرو کی پالیسی
کیپشن: پانی کو ہتھیار بنانا: بھارت میں مودی حکومت کی تقسیم کرو اور حکومت کرو کی پالیسی

ویب ڈیسک: مودی حکومت دریاؤں کے پانی کے تنازعات کو سندھ طاس معاہدے کی معطلی کے ذریعے پاکستان کے خلاف ہی نہیں بلکہ بھارت کے اندر بھی سیاسی فائدے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔

ناقدین کے مطابق مودی حکومت پانی کو علاقائی اور سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔ کاویری دریا کے معاملے میں یہ صورتحال واضح نظر آتی ہے۔ کرناٹک میں کانگریس حکومت، ڈی کے شیوکمار کی قیادت میں، بنگلورو کے پینے کے پانی اور بجلی کے لیے میکیداتو منصوبہ آگے بڑھا رہی ہے۔

دوسری طرف تمل ناڈو، جہاں ٹی وی کے اتحاد کی حکومت ہے، نے 19 جون 2026 کو اسمبلی میں اس منصوبے کی متفقہ مخالفت کی۔ تمل ناڈو کا مؤقف ہے کہ یہ منصوبہ 2007 کے ٹریبونل فیصلے اور 2018 کے سپریم کورٹ فیصلے کے خلاف ہے۔ناقدین کہتے ہیں کہ مودی حکومت جان بوجھ کر سنٹرل واٹر کمیشن اور ماحولیاتی اداروں کے ذریعے منظوریوں میں تاخیر کرتا ہے یا منتخب انداز میں فیصلے کرتا ہے تاکہ دونوں ریاستیں دباؤ میں رہیں۔ مودی حکومت نہ تو کرناٹک کے منصوبے کو واضح طور پر مسترد کرتا ہے اور نہ ہی دونوں ریاستوں کے درمیان مستقل حل نکالتا ہے۔ اس سے کرناٹک میں ترقی کے خدشات اور تمل ناڈو میں پانی کی کمی کے خوف کو مزید بڑھایا جاتا ہے۔

ناقدین کے مطابق اس پیدا کیے گئے اختلاف سے اپوزیشن کی حکومت والی ریاستیں کمزور ہوتی ہیں، حکومتی مسائل سے توجہ ہٹتی ہے اور مرکز انتخابات میں خود کو آخری فیصلہ کرنے والی طاقت کے طور پر پیش کرتا ہے۔

مودی حکومت کی ایسی سیاست کسانوں کے مسائل بڑھاتی ہے، لسانی اور علاقائی تقسیم کو گہرا کرتی ہے اور بھارتی وفاقی نظام کو نقصان پہنچاتی ہے۔ پانی جو زندگی کے لیے ضروری وسیلہ ہے، مودی حکومت کی جانب سے مبینہ طور پر سیاسی اور انتخابی فائدے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، اور ناقدین کے مطابق اس کا اثر بھارتی ریاستوں پر بھی پڑتا ہے اور پاکستان پر بھی۔

Watch Live Public News