ویب ڈیسک: ملک بھر میں سپر فلو کے کیسز میں تشویشناک اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس کے پیشِ نظر طبی ماہرین نے عوام کو نزلہ زکام کو ہرگز معمولی نہ لینے کی سخت ہدایت جاری کی ہے۔
ماہرین کے مطابق موجودہ موسم میں پھیلنے والا سپر فلو عام نزلہ زکام نہیں بلکہ انفلوئنزا اے (H3N2) وائرس سے منسلک ہے، جو عام فلو کے مقابلے میں زیادہ خطرناک اور تیزی سے پھیلنے والا وائرس ہے۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ سپر فلو کی علامات عام فلو کے مقابلے میں کہیں زیادہ شدید ہوتی ہیں۔ ان علامات میں تیز بخار، شدید سردرد، کھانسی، گلے میں خراش، جسم اور پٹھوں میں شدید درد، غیر معمولی تھکن اور کمزوری شامل ہیں، جبکہ بعض مریضوں میں سانس لینے میں دشواری کی شکایات بھی سامنے آ رہی ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ان علامات کے ظاہر ہوتے ہی فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کیا جائے، کیونکہ بروقت تشخیص اور علاج نہ ہونے کی صورت میں مرض خطرناک صورت اختیار کر سکتا ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق انفلوئنزا اے (H3N2) وائرس پہلی بار 1968 میں سامنے آیا تھا اور اب تک اس میں درجنوں بڑی جینیاتی تبدیلیاں آ چکی ہیں۔ یہ وائرس انسانی مدافعتی نظام سے بچنے کے لیے مسلسل اپنی ساخت میں تبدیلی کرتا رہتا ہے، اسی وجہ سے ہر سال فلو ویکسین کو اپ ڈیٹ کرنا ضروری ہو جاتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بچے زیادہ میل جول اور اسکولوں میں قریبی رابطے کے باعث اس وائرس کا جلد شکار ہو جاتے ہیں، جبکہ 64 برس سے زائد عمر کے افراد اور پہلے سے کسی دائمی بیماری میں مبتلا افراد میں پیچیدگیوں کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔
ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق انفلوئنزا ایک عام مگر مسلسل ارتقا پذیر بیماری ہے، جو ہر سال جینیاتی تبدیلیوں کے ذریعے نئی شکل اختیار کرتی ہے۔ ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر سپر فلو کے کیسز میں مزید اضافہ ہوا تو مریضوں، بالخصوص بچوں، بزرگوں اور دیگر بیماریوں میں مبتلا افراد کو وینٹی لیٹر پر منتقل کیے جانے کے امکانات نمایاں طور پر بڑھ سکتے ہیں۔