تجارتی جنگ، امریکی صدرٹرمپ نے چین پر 245 فیصد ٹیرف لگا دیا

تجارتی جنگ، امریکی صدرٹرمپ نے چین پر 245 فیصد ٹیرف لگا دیا

(ویب ڈیسک )  امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین سے درآمد کی جانے والی اشیاء پر ٹیرف (محصولات) کو 245 فیصد تک بڑھانے کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ انہوں نے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کر کے کیا، جس کا مقصد چین کی جانب سے جوابی اقدامات کا جواب دینا ہے۔

یہ حکم نامہ 15 اپریل کو جاری کیا گیا۔ سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ  یہ اقدام “آزادی کے دن” کے بعد کیا گیا، یعنی وہ دن جب امریکا نے پہلی بار چین پر ٹیرف لگایا تھا۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق، اس عرصے میں 75 سے زائد ممالک نے امریکا سے نئے تجارتی معاہدوں کے لیے رابطہ کیا، لیکن چین نے اس کے برعکس امریکا پر جوابی ٹیرف لگائے۔ اس پر صدر ٹرمپ کی حکومت نے "فیصلہ کن اقتصادی کارروائی" کرنے کا فیصلہ کیا۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق  یہ اقدام صرف اقتصادی نہیں بلکہ قومی سلامتی کے لیے بھی ضروری تھا۔ چین کے جوابی اقدامات نے ہمیں یہ قدم اٹھانے پر مجبور کیا۔

دوسری جانب معاشی ماہرین خبردار  کیا ہے کہ  اتنے زیادہ ٹیرف لگنے سے اشیاء کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں اور عالمی سطح پر سپلائی چین میں رکاوٹیں آ سکتی ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے امریکا مزید عالمی تجارتی تنہائی کا شکار ہو سکتا ہے اور معیشت میں بے یقینی پیدا ہو سکتی ہے۔

تاحال   چین کی طرف سے اس فیصلے پر کوئی سرکاری ردِعمل سامنے نہیں آیا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چین یا تو ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن (WTO) میں شکایت کر سکتا ہے یا خود بھی جوابی اقدامات کر سکتا ہے۔

یہ نیا ٹیرف فوری طور پر نافذ العمل ہو چکا ہے اور چین سے درآمد ہونے والی کئی اشیاء پر لاگو ہوگا۔ متاثرہ شعبوں اور اشیاء کی فہرست امریکی تجارتی نمائندے کے دفتر کی جانب سے جلد جاری کی جائے گی۔

Watch Live Public News