“40 منٹ کا وائرل ویڈیو” کیوں ٹرینڈ کررہا ہے؟

“40 منٹ کا وائرل ویڈیو” کیوں ٹرینڈ کررہا ہے؟
کیپشن: “40 منٹ کا وائرل ویڈیو” کیوں ٹرینڈ کررہا ہے؟

ویب ڈیسک: انٹرنیٹ پر حالیہ دنوں میں “40 منٹ کا وائرل ویڈیو” کے نام سے ایک نیا ٹرینڈ سامنے آیا ہے، تاہم حقیقت میں اس نام کی کوئی ویڈیو موجود ہی نہیں۔ سائبر سیکیورٹی ماہرین کے مطابق یہ سرچ ٹرم محض ایک جعلی کلک بیٹ ہے، جسے اسپامرز اور غلط معلومات پھیلانے والے عناصر دانستہ طور پر فروغ دے رہے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ٹرینڈ کا مقصد صارفین کو جعلی اور مشکوک لنکس پر کلک کرنے پر مجبور کرنا ہے، جو نہ صرف ڈیجیٹل سیکیورٹی کے لیے خطرناک ہیں بلکہ قانونی مشکلات کا سبب بھی بن سکتے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق یہ رجحان دراصل ایک سابق تنازع سے جڑا ہوا ہے، جس میں “19 منٹ 34 سیکنڈ کا وائرل ویڈیو” مبینہ طور پر لیک ہونے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ اس معاملے کے بعد صارفین کی دلچسپی بڑھنے پر نئے اور طویل سرچ الفاظ سامنے آئے، جن میں “40 منٹ کا وائرل ویڈیو” بھی شامل ہے، جس کے ذریعے جھوٹے دعوؤں اور غیر مصدقہ مواد کی تشہیر کی جا رہی ہے۔

سائبر ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ایسے لنکس پر کلک کرنے سے صارفین کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ ان لنکس کے ذریعے صارفین جعلی ویب سائٹس پر منتقل ہو سکتے ہیں جو ذاتی معلومات یا لاگ ان تفصیلات چرانے کے لیے بنائی جاتی ہیں۔ بعض صورتوں میں موبائل فون یا کمپیوٹر میں مالویئر انسٹال ہو سکتا ہے، جو ڈیٹا کو نقصان پہنچا سکتا ہے، جبکہ کئی ویب صفحات اشتہارات کے ذریعے صارفین کو پھنسا کر مالی فائدہ حاصل کرتے ہیں۔

سائبرسیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسی ویڈیوز عموماً مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے تیار کی جاتی ہیں اور ان سے جڑے افراد کو سنگین قانونی نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر کوئی شخص اس نوعیت کی ویڈیو دیکھتا، محفوظ کرتا یا شیئر کرتا ہے تو اسے قانونی کارروائی، تین سال تک قید اور بھاری جرمانے کا سامنا ہو سکتا ہے۔

سائبر سیکیورٹی ماہرین نے عوام کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس قسم کے جعلی ویڈیوز کے بارے میں سرچ کرنے، شیئر کرنے یا ان پر کلک کرنے سے مکمل طور پر گریز کریں۔ مشکوک آن لائن مواد سے دور رہنا نہ صرف ڈیجیٹل تحفظ کے لیے ضروری ہے بلکہ کسی بھی قانونی پیچیدگی سے بچاؤ کے لیے بھی اہم ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر آپ کو اس نوعیت کے کسی ٹرینڈ یا ویڈیو سے متعلق معلومات نظر آئیں تو سمجھ لیں کہ یہ محض ایک فریب ہے۔

Watch Live Public News