ویب ڈیسک : بھارت کے قومی خلائی ادارے’’ ISRO’’ نے خلا میں بغیر پائلٹ کے ڈاکنگ کو کامیابی کے ساتھ لانچ کردیا ، بھارت یہ صلاحیت حاصل کرنے والا دنیا کا چوتھا ملک بن گیا، اس سے قبل دنیا میں امریکا، روس اور چین وہ ممالک ہیں جنہوں نے ڈاکنگ کی صلاحیت کو حاصل کرکے اس کا میابی سےآزمائش کرچکے ہیں ۔
انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن ( ISRO) نے اس اہم سنگ میل کے حصول کا اعلان سماجی رابطے کی سائٹ X پر کہا۔" خلائی جہاز کی ڈاکنگ کامیابی سے مکمل ہو گئی! ایک تاریخی لمحہ، " بھارتی وزیراعظم نریندرامودی اور دیگر حکام نے ’’ اسرو ’’ کو اس تاریخی کامیابی پر مبارکباد دی ہے۔
ISRO کے مشن، جسے Space Docking Experiment (SpaDex) کہا جاتا ہے، میں دو چھوٹے خلائی جہاز، جن میں سے ہر ایک کا وزن تقریباً 220 کلو گرام تھا، کو زمین کے نچلے مدار میں بھیجنا شامل تھا۔ ٹارگٹ اور چیزر نامی دو خلائی جہاز 30 دسمبر کو جنوبی آندھرا پردیش ریاست میں ستیش دھون خلائی مرکز سے بھارتی ساختہ پی ایس ایل وی راکٹ کے ذریعے روانہ ہوئے تھے۔
ان ڈاکنگ ٹیکنالوجی مستقبل کی خلائی کوششوں کے لیے اہم ہے، ISRO کے مطابق، اگر بھارت کسی بھارتی شہری کو چاند پر بھیجنے، گھر میں تیار کردہ خلائی اسٹیشن کی تعمیر، اور چاند کے نمونے واپس کرنے کے اپنے عزائم کو آگے بڑھانے میں کامیاب ہوتا ہے تو مقامی طور پر تیار کردہ ڈاکنگ ٹیکنالوجی بہت اہم ہوگی۔
مشن کے حصے کے طور پر، ڈوکڈ خلائی جہاز ان کے درمیان برقی طاقت کی منتقلی کا بھی مظاہرہ کرے گا، ایک بار جب وہ منسلک ہو جائیں گے۔ یہ مستقبل کے مشنوں کے دوران خلائی روبوٹکس، خلائی جہاز کے کنٹرول، اور پے لوڈ آپریشن کے لیے ضروری ہے۔
یادرہے 2023 میں، بھارت کامیابی سے چاند پر خلائی جہاز اتارنے والا چوتھا ملک بن گیا تھا۔ تاریخی چندریان 3 مشن، چاند کے غیر دریافت شدہ قطب جنوبی کے قریب لینڈنگ کرنے والا پہلا خلائی جہاز تھا جس نے وہاں سے نمونے اکٹھے کیے تھے
بھارت نے 2035 تک اپنا خلائی اسٹیشن بنانے پر بھی اپنی نگاہیں جما رکھی ہیں، جسے "بھارتیہ انترکشا اسٹیشن" کہا جائے گا اور 2028 میں وینس پر اپنا پہلا مداری مشن لانچ کیا جائے گا۔ جبکہ 2027 میں چندرائن پروگرام کے تحت چاند پر انسانی موجودگی والا خلائی جہاز بھیجا جائے گا۔
بھارت کا خلائی شعبہ اس وقت تجارتی طور پر چلایا جارہا ہے ۔ غیرملکی سرمایہ کاری اور نجی انٹرپرائز کو چھوٹے مصنوعی سیارے بنانے اور لانچ کرنے کی اجازت دی گئی ہے ڈاکنگ تجربے کے لئے بھی راکٹ اور خلائی جہاز کو مکیش امبانی کی کمپنی اننت ٹیکنالوجیز کے تحت لانچ کیا گیا۔