2024 کی پارلیمان کو عوام کی نمائندہ پارلیمان تسلیم نہیں کرتا، مولانا فضل الرحمان 

2024 کی پارلیمان کو عوام کی نمائندہ پارلیمان تسلیم نہیں کرتا، مولانا فضل الرحمان 

(ویب ڈیسک ) جے یو آئی کے سربراہ   مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ  2024 کی پارلیمان کو عوام کی نمائندہ پارلیمان تسلیم نہیں کرتا،  ملکی سالمیت کی پالیسی ایوانوں میں نہیں بنائی جا رہی بلکہ بند کمروں میں بنائی جا رہی ہے۔

مولانا فضل الرحمان  نے قومی اسمبلی میں  اظہار خیال کرتے ہوئے  کہا کہ  تعجب کی بات ہے کہ نکتہ اعتراض پر بولنے کا موقع دینے کی روایت رہی ہے۔ایک سال میں اس ایواان کی ہنگامہ آرائی کو ختم نہیں کیا جا سکا۔ حکومت چاہے نہ چاہے سپیکر کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ ایوان کا ماحول بہتر رکھے۔

انہوں نے کہا کہ    پورا ملک اس وقت پریشانی اور اضطراب میں مبتلا ہے۔ عام آدمی کے پاس روز گار ہے نہ ہی جان و مال کا تحفظ، یہاں پر ادارے اور محکمہ ملیا میٹ کیے جا رہے ہیں۔

جے یو آئی کے سربراہ نے کہا کہ  اپوزیشن کی اچھی تجویز کو حکومت کو فراخدلی سے قبول کرنا چاہیے، ایک سال سے دیکھ رہا حکومت کی طرف سے ضد اور ہٹ دھرمی کا مظاہرہ ہو رہا ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ  ملکی سالمیت کی پالیسی ایوانوں میں نہیں بنائی جا رہی بلکہ بند کمروں میں بنائی جا رہی ہے۔کے پی اور بلوچستان کی صورتحال کسی سے پوشیدہ نہیں رہی، ہمیں ادراک ہونا چاہیے کہ دو صوبوں میں حکومت کی رٹ موجود نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ  کے پی کے جنوبی اضلاع میں اس وقت کوئی حکومت نہیں ہے۔ حکومت پہلے اپنی رٹ کو مضبوط کرے، قانون پاس ہوتے ہی نافذالعمل ہو جائے گا۔جنگ  نظریات اور اتھارٹی کی ہے۔ سیاست میں نظریات کی نظریات سے جنگ ہوتی ہے۔ ملک میں صرف اتھارٹی کو ہاتھ میں لینے کی سیاست ہو رہی ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے مزید کہا کہ  2024 کی پارلیمان کو عوام کی نمائندہ پارلیمان تسلیم نہیں کرتا۔

Watch Live Public News