ویب ڈیسک: سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے ہدایت کی کہ عمران خان کو سخت سکیورٹی میں اسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں میڈیکل بورڈ تشکیل دے کر ان کا طبی معائنہ کیا جائے۔
تین رکنی بینچ نے سماعت کے دوران عمران خان کا مکمل میڈیکل ریکارڈ عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت بھی کی۔ جسٹس شاہد وحید نے ریمارکس دیے کہ فراہم کی گئی دستاویزات صرف میڈیکل رپورٹ کی سمری ہیں، مکمل ریکارڈ آئندہ سماعت سے قبل جمع کرایا جائے۔
عدالت نے عمران خان کی بہنوں سے ملاقاتوں اور بچوں سے فون پر بات چیت کا ریکارڈ بھی طلب کرلیا۔ ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے بتایا کہ گزشتہ تین برس کے دوران عمران خان کی بہنوں سے 48 ملاقاتیں ہوچکی ہیں۔
سپریم کورٹ نے ریمارکس دیے کہ اہلِ خانہ سے ملاقات کوئی احسان نہیں بلکہ بنیادی حق ہے، جبکہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے احکامات پر عمل درآمد نہ ہونے کی وجوہات بھی طلب کیں۔
دورانِ سماعت پی ٹی آئی کے وکیل نے عمران خان کے ذاتی معالجین کو ان سے ملاقات اور طبی معائنے کی اجازت دینے کی درخواست کی۔ عدالت نے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو نہ کرنے کی یقین دہانی سے متعلق بھی سوالات کیے۔
جسٹس نعیم اختر افغان نے پی ٹی آئی کو ہدایت کی کہ عمران خان کی صحت کے معاملے کو سیاسی رنگ نہ دیا جائے۔ عدالت نے عمران خان کے خلاف زیرِ سماعت اور سزا یافتہ مقدمات کی مکمل تفصیلات بھی طلب کرلیں۔
عدالت نے اڈیالہ جیل حکام کو آئندہ سماعت پر طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت گرمیوں کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی کردی۔