(ویب ڈیسک) سپریم کورٹ نے تحریری فیصلے میں کہا ہے کہ حکومت اور اس کے متعلقہ افسران قیدی اور اس کے اہلخانہ کے درمیان ہفتے میں ایک بار ملاقات کی سہولت فراہم کریں گے، حکومت اور اس کے متعلقہ افسران قیدی کو ہفتے میں دو بار اپنے بیٹوں کے ساتھ ٹیلی فون پر بات کرنے کی سہولت بھی فراہم کریں گے۔
بانی پی ٹی آئی کی ہسپتال منتقلی کا معاملہ، سپریم کورٹ نے تحریری فیصلہ جاری کردیا ہے۔تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو اگلے دو دنوں کے اندر شفاء انٹرنیشنل ہسپتال اسلام آباد منتقل کیا جائے، حکومت، شفاء انٹرنیشنل ہسپتال کی انتظامیہ کی مشاورت سے میڈیکل بورڈ تشکیل دے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ میڈیکل بورڈ بانی پی ٹی آئی کا تفصیلی معائینہ کرے، میڈیکل بورڈ میب ایک فزیشن، ایک جنرل سرجن، انٹرنل میڈیسن کا ماہر، آنکھوں کا ماہر اور ایک ماہر امراضِ قلب شامل ہو، میڈیکل بورڈ بانی پی ٹی آئی کا تفصیلی معائینہ کرے، میڈیکل بورڈ میب ایک فزیشن، ایک جنرل سرجن، انٹرنل میڈیسن کا ماہر، آنکھوں کا ماہر اور ایک ماہر امراضِ قلب شامل ہو، ڈاکٹر فیصل سلطان اور ڈاکٹر عظمیٰ خان کو عمران خان کے طبع معائنے اور علاج سے منسلک رہنے کی اجازت ہوگی۔
تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ہسپتال کی طرف سے فراہم کردہ علاج اور سہولیات کے تمام ضروری اخراجات قیدی یا اس کے اہلخانہ برداشت کریں گے،اگلی سماعت تک بانی پی ٹی آئی کے اہلخانہ، ان کی سیاسی جماعت یا وکلاء طبی رپورٹیں میڈیا یا عوام الناس کے ساتھ شیئر یا ظاہر نہیں کریں گے۔
فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ حکومت اور اس کے متعلقہ افسران قیدی اور اس کے اہلخانہ کے درمیان ہفتے میں ایک بار ملاقات کی سہولت فراہم کریں گے، حکومت اور اس کے متعلقہ افسران قیدی کو ہفتے میں دو بار اپنے بیٹوں کے ساتھ ٹیلی فون پر بات کرنے کی سہولت بھی فراہم کریں گے۔
تحریری فیصلے کے مطابق یقنی بنایا جائے کہ ہسپتال کے باہر کوئی سیاسی اجتماع نہیں ہوگا، بانی کی میڈیکل رپورٹس کو سیاست کیلئے استعمال نہیں کی جائے گی،یقین دہانیوں کی خلاف ورزی ہوئی تو دیا گیا ریلیف واپس ہوسکتا ہے، حکومت کو لگے کہ ریلیف کا غلط استعمال ہو رہا ہے تو درخواست دے سکتی ہے۔ بانی پی ٹی آئی اور انکے اہل خانہ بھی شکایت کی صورت میں درخواست دے سکتے ہیں۔
عدالت نے حکومت کو ہسپتال میں بانی پی ٹی آئی کی سکیورٹی یقینی بنانے کا حکم دے دیا۔عدالت نے بانی پی ٹی آئی کے خلاف درج تمام مقدمات کی تفصیلات طلب کر لیں۔عدالت نے بانی پی ٹی آئی کا تمام میڈیکل ریکارڈ بھی پیش کرنے کا حکم دے دیا۔
سپریم کورٹ نے شفا انٹرنیشنل اسپتال میں بانی کے معائنے اور علاج کی مکمل تفصیلات آئندہ سماعت پر عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیدیا۔تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ قیدی ہونا کسی شخص کو انسانی سلوک اور ضروری طبی سہولیات کے حق سے محروم نہیں کرتا،ریاست اور عدالت کی آئینی و قانونی ذمہ داری ہے کہ زیر حراست شخص کی زندگی، صحت، وقار اور سلامتی کا تحفظ یقینی بنائے،بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق پیش کردہ خلاصے سے بظاہر صحت میں بگاڑ ظاہر ہوتا ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے توہین عدالت کی کارروائی ختم کرنے کے فیصلے پر سپریم کورٹ نے تمام فریقین کو نوٹس جاری کردیے۔فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے توہین عدالت کی کارروائی ختم کرتے ہوئے وجوہات بیان نہیں کیں،توہین عدالت کی کارروائی ختم کرنے کے فیصلے میں وجوہات نہ دینا بادی النظر میں منصفانہ ٹرائل کے منافی ہے،عدالتی احکامات میں فیصلے کی بنیاد بننے والی وجوہات کا واضح ہونا ضروری ہے۔
عدالت نےتوہین عدالت کیس میں جواب دہندگان کو تحریری وضاحت جمع کرانے اور آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دیدیا۔عدالت نے بانی پی ٹی آئی کی سزا معطلی سے متعلق درخواست پر وکیل کی 21 اگست تک عمومی التوا پر ہونے کے باعث کارروائی مؤخر کردی۔
سپریم کورٹ نے تمام متعلقہ مقدمات کو باہم منسلک قرار دیتے ہوئے اکٹھا نمٹانے کا فیصلہ کیا ہے۔بانی پی ٹی آئی سے متعلق مقدمات کی سماعت 16 ستمبر 2026 تک ملتوی، کیس کو پارٹ ہیئرڈ قرار دے دیا گیا ۔