ویب ڈیسک: دنیا بھر میں ریلوے نظام کے معیار کا موازنہ کرنے کے لیے ورلڈ اکنامک فورم کے تازہ ترین عالمی اشاریے کی بنیاد پر بہترین ریلوے نظام رکھنے والے ممالک کی فہرست جاری کر دی گئی ہے۔ اس درجہ بندی میں ممالک کو 1 سے 7 کے اسکیل پر جانچا گیا، جہاں زیادہ اسکور بہتر معیار کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
فہرست میں جاپان پہلے نمبر پر رہا۔ جاپان کا ریلوے نظام دنیا کے جدید ترین نظاموں میں شمار ہوتا ہے، جہاں تیز رفتار ٹرینوں کا وسیع نیٹ ورک، مکمل برقی نظام، اعلیٰ معیار، وقت کی سخت پابندی، بہترین دیکھ بھال اور آرام دہ سفر نمایاں خصوصیات ہیں۔
دوسرے نمبر پر ہانگ کانگ موجود ہے۔ ہانگ کانگ کا ایم ٹی آر سسٹم جدید خودکار ٹیکنالوجی، عالمی معیار کی مینٹیننس اور میٹرو لیول فریکوئنسیز کی بدولت ممتاز ہے، جبکہ پلیٹ فارم اسکرین ڈورز اور معیاری آپریشنز تاخیر کو کم سے کم رکھتے ہیں۔
سوئٹزرلینڈ تیسرے نمبر پر رہا۔ یہاں کا ریلوے نظام گھڑی کی طرح درست ٹائم ٹیبل، وسیع سرنگی نیٹ ورک اور سخت موسمی حالات میں بھی مستحکم آپریشن کی وجہ سے انتہائی قابلِ اعتماد سمجھا جاتا ہے۔
جنوبی کوریا کو چوتھا نمبر دیا گیا ہے۔ کوریا کے کے ٹی ایکس تیز رفتار روٹس، مضبوط میٹرو اور کمیوٹر نیٹ ورکس کے ساتھ مل کر اعلیٰ معیار کی سروس فراہم کرتے ہیں، جبکہ مؤثر فریٹ مینجمنٹ ٹریک کی بہتر حالت کو یقینی بناتی ہے۔
پانچویں نمبر پر سنگاپور ہے، جہاں مختصر مگر انتہائی مصروف ریلوے نیٹ ورک جدید پیشگی دیکھ بھال اور مرحلہ وار توسیع کے ذریعے مسلسل اعلیٰ معیار کی سہولیات فراہم کر رہا ہے۔
نیدرلینڈز چھٹے نمبر پر رہا۔ یہاں کا انٹر سٹی اور کمیوٹر نیٹ ورک، جدید سگنلنگ سسٹم (ETCS) اور تیز رفتار حادثاتی ردعمل تاخیر کے اثرات کو محدود رکھنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔
ساتویں نمبر پر فن لینڈ موجود ہے۔ فن لینڈ کا ریلوے نظام شدید سرد موسم کے لیے خصوصی انجینئرنگ، گرم سوئچز اور واضح ونٹر آپریٹنگ پالیسیز کی بدولت انتہائی مشکل حالات میں بھی مؤثر انداز میں چلتا ہے۔
آٹھویں نمبر پر اسپین ہے، جہاں وسیع اے وی ای تیز رفتار نیٹ ورک کو فریٹ اور کمیوٹر ٹریفک سے الگ رکھا گیا ہے، جس سے زیادہ رفتار اور بہتر سروس ممکن ہو سکی ہے۔
تائیوان کو نویں نمبر پر رکھا گیا ہے۔ یہاں جدید تیز رفتار ریلوے کو میٹرو اور کمیوٹر سسٹمز کے ساتھ مؤثر طور پر جوڑا گیا ہے، جبکہ زلزلہ مزاحم ڈیزائن اور تیز بحالی کے طریقہ کار سروس کے تسلسل کو یقینی بناتے ہیں۔
فہرست میں دسویں نمبر پر آسٹریا ہے، جہاں پہاڑی علاقوں میں مسلسل سرمایہ کاری، برقی کاری اور طویل سرنگی منصوبوں کے ذریعے سفر کا وقت کم اور مجموعی ریلوے نیٹ ورک کی کارکردگی میں نمایاں بہتری آئی ہے۔