ویب ڈیسک: حکومت نے آئندہ چھ ماہ کے دوران سرکلر ڈیٹ میں 491 ارب روپے کے ممکنہ اضافے کے خدشے کے پیش نظر 200 ارب روپے کی بجلی سبسڈی کی منظوری دے دی ہے۔ یہ منظوری جمعرات کو کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے اجلاس میں دی گئی۔
اس فیصلے کا مقصد بین الاقوامی مالیاتی فنڈ ( آئی ایم ایف) کے ساتھ طے شدہ حدود کے اندر رہتے ہوئے سرکلر ڈیٹ کے بہاؤ کو قابو میں رکھنا ہے۔ تاہم ای سی سی نے ملک کی نازک مالی صورتحال کے باوجود ارکانِ پارلیمان کی صوابدیدی ترقیاتی اسکیموں کے لیے مجموعی طور پر 11.5 ارب روپے کی بھی منظوری دے دی۔
وزارتِ خزانہ کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق وزیر خزانہ و محصولات کی زیر صدارت ای سی سی کا اجلاس ہوا، جس میں بجلی کے شعبے میں کیش فلو مسائل کے حل کے لیے ڈسکوز کی ایکویٹی میں حکومتِ پاکستان کی سرمایہ کاری کے تحت 200 ارب روپے کی ضمنی گرانٹ منظور کی گئی۔
منظور شدہ رقم میں سے 105 ارب روپے وزارتِ خزانہ براہِ راست فراہم کرے گی جبکہ باقی رقم بجلی کے شعبے کے لیے مختص سبسڈی سے دی جائے گی۔ رواں مالی سال میں حکومت نے بجلی سبسڈی کے لیے 1.04 کھرب روپے رکھے تھے، تاہم آئی ایم ایف نے دوسرے جائزے کے دوران اس رقم کو کم کر کے 893 ارب روپے کر دیا تھا۔
اس کے باوجود ہر سال کھربوں روپے کے مالی انجیکشن کے بعد بھی بجلی کے شعبے کی کارکردگی بدستور تشویشناک رہی ہے۔ پاور ڈویژن نے ای سی سی کو بتایا کہ سرکلر ڈیٹ ایک بنیادی مسئلہ بن چکا ہے، جو اکتوبر 2025 کے اختتام تک بڑھ کر 1.817 کھرب روپے تک پہنچ گیا تھا، جبکہ جون میں یہ 1.614 کھرب روپے تھا۔
مزید بتایا گیا کہ بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کے متوقع واجبات، ڈسکوز سے وصولیوں اور نومبر و دسمبر 2025 کی معمول کی ٹیرف ڈیفرینشل سبسڈی کو مدنظر رکھا جائے تو سرکلر ڈیٹ دسمبر 2025 کے اختتام تک بڑھ کر 2.105 کھرب روپے تک پہنچنے کا امکان ہے۔
یہ سطح جون کے مقابلے میں 491 ارب روپے زیادہ ہوگی، جسے آئی ایم ایف سے طے شدہ حد تک لانے کے لیے حکومت کو 200 ارب روپے کی اضافی سبسڈی دینا پڑ رہی ہے۔ آئی ایم ایف نے حکومت کو ہدایت کی ہے کہ سرکلر ڈیٹ کے بہاؤ کو 300 ارب روپے تک محدود رکھا جائے، جس کے مطابق دسمبر کے اختتام پر سرکلر ڈیٹ کی سطح 1.914 کھرب روپے ہونی چاہیے۔
ای سی سی کو آگاہ کیا گیا کہ اگر بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کو بروقت ادائیگیاں نہ کی گئیں تو بجلی کی فراہمی مزید متاثر ہوگی اور معاشی سرگرمیوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ چونکہ آئی پی پیز کو ادائیگیاں حکومتی ضمانتوں کے تحت محفوظ ہیں، اس لیے تاخیر کی صورت میں ضمانتوں کے استعمال اور لیٹ پیمنٹ سرچارجز کے خطرات بھی بڑھ جائیں گے۔
پاور ڈویژن کا مؤقف تھا کہ 200 ارب روپے کی سبسڈی سرکلر ڈیٹ کے بہاؤ سے متعلق اہداف حاصل کرنے میں مدد دے گی۔ آئی ایم ایف نے رواں مالی سال کے لیے سرکلر ڈیٹ کے مجموعی بہاؤ کی حد 400 ارب روپے مقرر کی ہے، تاہم ای سی سی نے گزشتہ ہفتے اس حد سے زیادہ یعنی 522 ارب روپے کے بہاؤ کی منظوری دی تھی۔
آئی ایم ایف کے مطابق اگر 400 ارب روپے کی اسٹاک کلیئرنس سبسڈی فراہم کی جائے تو رواں سال خالص سرکلر ڈیٹ میں اضافہ صفر رکھا جا سکتا ہے، تاہم اس صورت میں بجٹ کو بجلی کے نظام کی ناکامیوں کی قیمت ادا کرنا پڑے گی۔