(ویب ڈیسک )سابق آسٹریلوی فاسٹ بولر اور پاکستان ٹیسٹ کرکٹ ٹیم کے سابق ہیڈ کوچ جیسن گلیسپی نے پاکستان کرکٹ بورڈ پر کوچنگ کے معاوضے کی عدم ادائیگی کا الزام عائد کیا ہے۔
خیال رہے کہ اپریل 2024 میں ٹیسٹ ٹیم کا ہیڈ کوچ مقرر ہونے والے جیسن گلیسپی نے دسمبر میں عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ ان کے اور پی سی بی کے درمیان اختلافات کو استعفے کی بنیادی وجہ قرار دیا گیا تھا۔ عہدہ چھوڑنے کے بعد سے جیسن گلیسپی پاکستان کرکٹ بورڈ پر تنقید کرتے آئے ہیں۔
ایک حالیہ انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ان کے دل میں پاکستان کرکٹ کے لیے کوئی منفی جذبات نہیں ہیں، مگر انہیں افسوس ہے کہ انہیں کوچنگ کے9 ماہ گزرنے کے باوجود ابھی تک معاوضہ نہیں دیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ اب بھی اس کام کے معاوضے کے منتظر ہیں جو وہ انجام دے چکے ہیں، اور یہ صورتحال ان کے لیے مایوس کن ہے۔ تاہم انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ معاملہ جلد حل ہو جائے گا۔
جیسن گلیسپی اس سے قبل یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ پاکستان ٹیم کے ساتھ گزارے گئے وقت نے ان کی کوچنگ کے جذبے کو متاثر کیا ہے۔ ان کے مطابق کوچنگ کا تجربہ اس طرح ختم ہونا انتہائی مایوس کن تھا اور اس نے انہیں یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ آیا وہ دوبارہ فل ٹائم کوچنگ کرنا چاہتے ہیں یا نہیں۔
اس کے علاوہ وہ عبوری ہیڈ کوچ عاقب جاوید پر بھی اپنے اختیارات کو کمزور کرنے کا الزام لگا چکے ہیں۔
پی سی بی کا ردعمل
دوسری جانب پاکستان کرکٹ بورڈ نے جیسن گلیسپی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ معاوضے کی عدم ادائیگی کے الزامات میں کوئی صداقت نہیں۔
پی سی بی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ جیسن گلیسپی معاہدے کے تحت دیے گئے 4 ماہ کے نوٹس کے بغیر ہی اپنا عہدہ چھوڑ گئے تھے، اور اس وجہ سے واجبات کی ادائیگی کا معاملہ ان کی طرف نکلتا ہے۔
ترجمان کے مطابق گلیسپی کے ایجنٹ نے بھی پی سی بی سے رابطہ کیا تھا، جس پر بورڈ نے انہیں واضح طور پر آگاہ کر دیا تھا کہ سابق کوچ اپنے ذمے واجبات کلیئر کریں ، پھر باقی حساب بھی کلیئر کرلیں گے۔