شیخ الحدیث مولانا قاری مفتاح اللہ انتقال کر گئے

 شیخ الحدیث مولانا قاری مفتاح اللہ انتقال کر گئے

ویب ڈیسک: جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے مولانا قاری مفتاح اللہ کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

 انہوں نے اپنے تعزیتی بیان میں کہا کہ قاری مفتاح اللہ کی وفات علمی دنیا کے لیے ایک بڑا نقصان ہے۔ وہ نہ صرف ایک باعمل عالم تھے بلکہ علمِ قرأت، تفسیر اور حدیث میں بھی نمایاں مقام رکھتے تھے۔

مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ مرحوم نے اپنی پوری زندگی دینِ اسلام کی خدمت میں گزاری۔ انہوں نے ہزاروں طلبہ کی تعلیم و تربیت کی اور علم کا فیض عام کیا۔ ان کی تدریسی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ وہ ایک بہترین خطیب اور باکردار شخصیت کے حامل تھے۔

انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند کرے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ ساتھ ہی مرحوم کے اہلِ خانہ، شاگردوں اور متعلقین سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے صبر جمیل کی دعا کی۔

حضرت مولانا مفتاح اللہ 1965ء میں جامعہ بنوری ٹاؤن تشریف لائے، 1974ء میں فراغت حاصل کی اور اس کے بعد آخری سانس تک تقریباً نصف صدی اسی ادارے سے وابستہ رہے، قال اللہ اور قال الرسول ﷺ ان کی زندگی کا خلاصہ تھا۔

مرحوم حضرت قاری مفتاح اللہ نہایت باکردار، صاف گو، بااصول اور سچے کھرے انسان تھے، دنیا کی چکاچوند، مادی آسائشوں اور ظاہری نمود و نمائش سے دور، شریعت کے عین مطابق سادہ زندگی گزار کر رخصت ہوئے، ان کا اصل امتیاز یہ تھا کہ وہ تعلیم کو تربیت سے جدا نہیں سمجھتے تھے۔

وہ خوش الحان قاریِ قرآن تھے، صاحبِ طرز خطیب تھے اور اردو و فارسی اور بعض اوقات پشتو اشعار کو ایسے ذوق اور تاثیر کے ساتھ پڑھتے تھے کہ سننے والوں کے دلوں میں اتر جاتے، قرآنِ کریم سے گہری وابستگی، درس و تدریس کا ذوق، اصلاحِ معاشرہ کا جذبہ اور دعوت و ارشاد کا سوز آپ کی زندگی کے نمایاں اوصاف تھے۔

Watch Live Public News