(ویب ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ نے کشمیر سمیت بھارت بھر میں استثنیٰ، ماورائے عدالت قتل اور بے احتسابی کو فروغ دیا۔
ایکسپریس ٹریبیون رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ AFSPA کی جڑیں برطانوی دور کے 1942 نوآبادیاتی قانون سے ملتی ہیں، جو مزاحمتی تحریکیں دبانے کیلئے بنایا گیا تھا۔ بھارت نے 1958 میں ناگالینڈ، منی پور اور شمال مشرقی شورشوں کے دوران AFSPA نافذ کیا۔ 1990 میں بڑھتی مزاحمتی تحریکوں کے دوران AFSPA کو جموں و کشمیر تک توسیع دی گئی۔
ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق مارچ 2026 میں اقوامِ متحدہ کے چھ خصوصی ماہرین نے AFSPA پر عالمی سطح پر سوالات اٹھائے۔اقوامِ متحدہ ماہرین نے AFSPA اور فوجی استثنیٰ پر 11 صفحات پر مشتمل تفصیلی خط ارسال کیا۔ماہرین نے جبری گمشدگیوں، تشدد، طویل حراست، ماورائے عدالت قتل اور فوجی استثنیٰ پر شدید تشویش ظاہر کی۔
ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ AFSPA فوجیوں کو “پریشان علاقوں” میں بغیر وارنٹ گرفتاری اور چھاپوں کا اختیار دیتا ہے۔ AFSPA عوامی نظم برقرار رکھنے کے نام پر مہلک طاقت استعمال کرنے کی اجازت دیتا ہے۔سیکشن 4(c) مبہم “معقول شک” کی بنیاد پر پیشگی حراست کی اجازت دیتا ہے۔ سیکشن 6 مرکزی حکومت کی اجازت بغیر فوجی اہلکاروں کے خلاف مقدمات روکتا ہے۔
ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق اقوامِ متحدہ ماہرین نے اس استثنیٰ کو “ساختی بے احتسابی” قرار دیا۔ سپریم کورٹ نے “پریشان علاقوں” کے جائزے ہر چھ ماہ بعد لازمی قرار دیئے تھے۔اقوامِ متحدہ ماہرین کے مطابق عدالتی تحفظات مسلسل نظرانداز یا غیر مؤثر ثابت ہوئے۔کشمیر اور شمال مشرقی بھارت کی کئی نسلیں چھ دہائیوں سے AFSPA کے سائے تلے زندگی گزار رہی ہیں۔ انسانی حقوق تنظیموں نے AFSPA کے تحت جعلی مقابلوں اور ماورائے عدالت کارروائیوں کے الزامات عائد کئے۔الزامات میں تشدد، جبری گمشدگیاں، خفیہ حراستیں اور طاقت کا بے جا استعمال شامل رہا۔
ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کشمیر اور شمال مشرقی علاقوں میں ہزاروں افراد مبینہ طور پر لاپتہ ہوئے۔خاندان برسوں تک زیرحراست عزیزوں کی تلاش میں دربدر ہوتے رہے۔ اقوامِ متحدہ ماہرین نے خفیہ حراستوں کو جبری گمشدگی قرار دینے کا انتباہ دیا۔ کشمیر میں کرفیو، پیلٹ گنز، انٹرنیٹ بندشیں، چھاپے اور اجتماعی گرفتاریاں معمول بن گئیں۔ماہرین کے مطابق مسلسل عسکریت نے شہری آزادیوں اور اختلافِ رائے کو شدید محدود کردیا۔
ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق AFSPA سے مقامی اقلیتیں، قبائلی برادریاں اور سیاسی طور پر محروم طبقات شدید متاثر ہوئے۔ AFSPA بچوں کی گرفتاری، حراست اور فوجی کارروائیوں سے متعلق خصوصی تحفظات فراہم نہیں کرتا۔ تھانگجام منورما کے 2004 قتل نے منی پور بھر میں شدید احتجاج بھڑکا دیا تھا۔ بارہ منی پوری خواتین نے کانگلا فورٹ کے سامنے برہنہ احتجاج کیا تھا۔مالوم واقعے میں دس شہریوں کی ہلاکت نے ایروم شرمیلا کی بھوک ہڑتال شروع کروائی۔
ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق ایروم شرمیلا نے AFSPA کے خاتمے کیلئے تقریباً سولہ برس طویل بھوک ہڑتال جاری رکھی۔جسٹس جیون ریڈی کمیٹی نے 2005 میں AFSPA ختم کرنے کی سفارش کی تھی۔کمیٹی نے AFSPA کو بھارت میں “جبر اور ظلم کی علامت” قرار دیا تھا۔
ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق بھارتی حکومتوں نے قومی سلامتی اور انسداد شورش جواز بناکر اصلاحات مسلسل مسترد کیں۔بھارتی حکام نے AFSPA کو فوجیوں کو قانونی تحفظ دینے کیلئے ضروری قرار دیا۔ اقوامِ متحدہ ماہرین نے فوجی ٹربیونلز کو غیر شفاف، غیر آزاد اور غیر جوابدہ قرار دیا۔کشمیر اور شمال مشرق میں نسلیں چوکیوں، چھاپوں، کرفیو اور عسکری ماحول میں پروان چڑھیں۔تقریباً تیس برسوں میں کشمیر میں کسی فوجی اہلکار کے خلاف مقدمہ منظور نہیں ہوا۔
اقوامِ متحدہ نے طاقت کے استعمال، حراستوں اور احتسابی نظام پر وضاحتیں طلب کیں۔اشاعت تک بھارت نے اقوامِ متحدہ کے خط پر کوئی سرکاری جواب نہیں دیا تھا۔