(ویب ڈیسک) فلوریڈا کے شیرف وین آئیوی کا واضح پیغام، پرامن احتجاج جمہوریت کا حصہ ہے، مگر تشدد، راستے بند کرنا اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں پر حملہ قابل قبول نہیں۔
شیرف وین آئیوی کی ویڈیو وائرل میں انہیں کہتے سنا جا سکتا ہے کہ احتجاج ضرور کریں، اپنے مؤقف کا اظہار کریں مگر قانون نہ توڑیں اور پولیس اہلکاروں کے ساتھ تصادم سے گریز کریں، احتجاج کا آئینی حق کسی کو عوامی شاہراہیں بند کرنے، شہریوں کی آمدورفت روکنے یا قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں پر حملے کا اختیار نہیں دیتا۔
پاکستان میں 27 ستمبر کے احتجاج کے اعلان کے بعد حکومت کا موقف بھی فلوریڈا کے شیرف کی طرح غیر مبہم ہے۔ وزیر داخلہ محسن نقوی دوٹوک اعلان کر چکے، اسلام آباد پر دھاوا بولنے یا عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ احتجاج ہر سیاسی جماعت کا جمہوری حق ہے لیکن دارالحکومت کا گھیراؤ کرکے نظام زندگی مفلوج کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی،قانون نافذ کرنے والے اداروں کو واضح رولز آف انگیجمنٹ دیے جائیں گے۔
پالیسی واضح ہے کہ قانون ہاتھ میں لینے یا تشدد کی صورت میں فورسز خاموش تماشائی نہیں بنیں گی۔
محسن نقوی کے مطابق اسلام آباد پر دھاوا یا عدالتی احکامات کی خلاف ورزی توہین عدالت کے زمرے میں آئے گی، قانون کی خلاف ورزی پر قانونی کارروائی ہوگی۔ءاسلام آباد ہائی کورٹ بھی واضح کر چکی، پرامن احتجاج کا حق اپنی جگہ لیکن شہریوں کے بنیادی حقوق متاثر کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
عدالت کے مطابق سیاسی جلسے اور جتھے میں فرق ہے، عوامی راستے روکنا، شہریوں کی آمدورفت متاثر کرنا اور معمولات زندگی مفلوج کرنا قانونی تحفظ حاصل نہیں کرتا۔
پاکستان اور امریکہ کی مثالیں ایک ہی بنیادی اصول کی نشاندہی کرتی ہیں، احتجاج کا حق دوسروں کے حقوق سلب کرنے یا قانون کو ہاتھ میں لینے کا حق نہیں۔ نہ فلوریڈا میں نہ پاکستان میں احتجاج کے نام پر شاہراہیں بند کرنے، شہریوں کا راستہ روکنے، کاروبار، ہسپتال یا سکولوں کا نظام متاثر کرنے کی اجازت ہے۔
27 ستمبر کے احتجاج کے تناظر میں واضح پیغام، پرامن سیاسی جلسہ اور آئینی احتجاج ایک معاملہ، تشدد، شاہراہوں کی بندش اور دارالحکومت کا محاصرہ الگ قانونی معاملہ ہے۔شہریوں کے آئینی حقوق احتجاج کے نام پر معطل نہیں کیے جا سکتے، ریاست اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری عام شہریوں کے حقوق اور امن و امان کا تحفظ بھی ہے۔
قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں پر حملہ، تشدد یا ریاستی عملداری کو طاقت کے ذریعے چیلنج کرنا پرامن احتجاج کے دائرے میں نہیں آتا۔ اصول واضح ہے، احتجاج کریں، اختلاف کریں، آواز بلند کریں، مگر شہریوں کا راستہ، شہر کا نظام اور قانون کی عملداری بند کرنے کی کوشش پر قانون کے آہنی ہاتھ کا سامنا کریں۔