ویب ڈیسک: مصنوعی ذہانت کے میدان میں امریکی بالادستی کو خطرہ، چینی اسٹارٹ اپ ڈیپ سیک نے اپنا جدید ماڈل ڈیپ سیک V3.1 متعارف کرا دیا ہے۔
چینی میڈیا نے کمپنی کے حوالے سے بتایا کہ یہ ماڈل ہائبرڈ انفیرینس اسٹرکچر، تیز پروسیسنگ اور مضبوط ایجنٹ صلاحیتوں سے مزین ہے۔اس ماڈل کی API قیمتوں میں 6 ستمبر سے تبدیلی کی جائے گی۔
ڈیپ سیِک کے مطابق ماڈل کی ٹریننگ پر صرف 5.6 ملین ڈالر لاگت آئی، لیکن اس نے کوڈنگ بینچ مارک پر 71.6 فیصد اسکور حاصل کیا۔ یہ امریکی کمپنیوں اوپن اے آئی اور اینتھروپک کے مہنگے ماڈلز کے برابر ہے، جو چینی اداروں کی محدود وسائل میں مؤثر حل تیار کرنے کی صلاحیت ظاہر کرتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی چِپ ایکسپورٹ پابندیوں کے باعث چینی کمپنیوں نے اپنے ماڈلز کی کارکردگی بڑھانے پر زور دیا ہے۔ امریکی کمپنیوں کے برعکس، جو زیادہ ہارڈویئر استعمال کرتی ہیں، چینی ماڈلز کم لاگت میں بھی شاندار نتائج دے رہے ہیں۔
ڈیپ سیِک نے اوپن سورس حکمتِ عملی اختیار کی ہے، جس سے کمپنی کو پریمیئم قیمتیں وصول کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ اس حکمت عملی نے کمپنی کو صرف تکنیکی صلاحیت ہی نہیں بلکہ کم لاگت اور عملی مؤثریت میں بھی برتری دی ہے۔
ماہرین کے مطابق، ڈیپ سیِک کی جانب سے اے پی آئی پرائس ایڈجسٹمنٹ عالمی اے آئی مارکیٹ کے بدلتے رجحانات کی عکاسی کرتی ہے۔ حال ہی میں اوپن اے آئی نے بھی اپنے O3 API کی قیمت میں 80 فیصد کمی کی تھی، جس سے ڈویلپرز کے لیے AI خدمات پہلے سے زیادہ سستی ہو گئی ہیں۔
اس کے نتیجے میں مارکیٹ میں کم قیمت اور اعلیٰ معیار کو اہم معیار قرار دیا جا رہا ہے، اور یہ رجحان دنیا بھر میں AI ماڈلز کی مسابقتی طاقت بڑھا رہا ہے۔
ڈیپ سیِک کا V3.1 ماڈل ایک مثال ہے کہ محدود وسائل کے باوجود عالمی معیار کی AI ٹیکنالوجی تیار کی جا سکتی ہے۔
خیال رہے کہ رواں ہفتے اوپن اے آئی کے چیف ایگزیکٹو سام آلٹمین نے واضح کیا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے اے آئی کے حوالے سے چین کی ترقی کو نظر انداز کرنا نامناسب رویہ ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ امریکا کا ایکسپورٹ کنٹرول کوئی قابل انحصار حل نہیں ہے۔