ویب ڈیسک: امریکی محکمہ تجارت نے کمبوڈیا، تھائی لینڈ، ملائیشیا اور ویتنام سے درآمد کیے جانے والے سولر پینلز پر 3521فیصد تک کا غیرمعمولی ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کردیا ہے۔
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق یہ فیصلہ چینی سبسڈی اور غیر منصفانہ قیمتوں پر امریکی مارکیٹ میں مصنوعات ڈالنے کے الزامات کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔ امریکی تحقیقات کے مطابق کئی چینی کمپنیوں نے اپنی پیداوار کو بچانے کے لیے جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک میں منتقل کر دیا تھا تاکہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں لگنے والے ٹیرف سے بچ سکیں۔
ٹیرف کی تفصیلات اور ممکنہ اثرات
امریکی محکمہ تجارت کی جانب سے یہ اعلان تقریباً ایک سال طویل تحقیقات کے بعد سامنے آیا، جس کی درخواست امریکی سولر مینوفیکچرنگ کمپنیوں نے دی تھی۔
کمبوڈیا کے بعض برآمد کنندگان کو سب سے زیادہ 3521 فیصد ڈیوٹی کا سامنا کرنا پڑے گا، کیونکہ انہوں نے تحقیقات میں تعاون نہیں کیا۔
تھائی لینڈ میں چینی کمپنی ٹرینا سولر کی مصنوعات پر 375 فیصد ٹیرف لگے گا۔
ملائیشیا میں جنکو سولر کی مصنوعات پر 41 فیصد سے زائد ٹیرف لگانے کی تجویز دی گئی ہے۔
یہ ٹیرف انسداد سبسڈی (کاؤنٹر ویلنگ) اور اینٹی ڈمپنگ قوانین کے تحت لگائے جا رہے ہیں۔
امریکی صنعت کا خیر مقدم، صارفین کو قیمتوں میں اضافے کا خدشہ
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق امریکن الائنس فار سولر مینوفیکچرنگ ٹریڈ کمیٹی نے اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے "امریکی مینوفیکچرنگ کے لیے فیصلہ کن فتح" قرار دیا ہے۔
ادھر مبصرین کا کہنا ہے کہ جہاں یہ ٹیرف امریکی صنعت کو تحفظ فراہم کریں گے، وہیں یہ عام صارفین اور کاروباروں کے لیے سولر مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا باعث بن سکتے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق امریکا نے صرف 2023 میں چاروں متاثرہ ممالک سے 12 ارب ڈالر سے زائد کے سولر پینلز درآمد کیے۔
جغرافیائی سیاست کا پس منظر
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چینی صدر شی جن پنگ نے حال ہی میں ویتنام، کمبوڈیا اور ملائیشیا کا دورہ کیا تھا تاکہ امریکا کے خلاف خطے میں حمایت حاصل کی جا سکے۔ دورے کے دوران صدر شی نے امریکا کی پالیسیوں کو "یکطرفہ غنڈہ گردی" قرار دیا تھا۔
حتمی فیصلہ کب ہو گا؟
انٹرنیشنل ٹریڈ کمیشن (ITC) جون 2025 تک ان مجوزہ ٹیرف پر حتمی فیصلہ دے گا۔ اگر یہ ٹیرف نافذ ہو گئے تو یہ ٹرمپ دور کے پہلے سے موجود ٹیرف کے ساتھ شامل ہو کر کئی چینی مصنوعات پر 245 فیصد تک کے مجموعی ٹیکس کا باعث بن سکتے ہیں۔
دوسری طرف چین نے بھی امریکی مصنوعات پر 125 فیصد تک ٹیکس عائد کر دیا ہے اور امریکی اقدامات کے خلاف "آخر تک لڑنے" کا اعلان کیا ہے۔