تھائیرائیڈ صرف وزن نہیں جسم کے کئی نظام متاثر کرتا ہے، ماہرین نےخبردارکردیا

تھائیرائیڈ صرف وزن نہیں جسم کے کئی نظام متاثر کرتا ہے، ماہرین نےخبردارکردیا
کیپشن: تھائیرائیڈ صرف وزن نہیں بلکہ جسم کے کئی نظام متاثر کرتا ہے، ماہرین خبردار

ویب ڈیسک: عام طور پر تھائیرائیڈ کو صرف وزن بڑھنے یا گھٹنے سے جوڑا جاتا ہے، مگر ماہرین امراض کا کہنا ہے کہ یہ گلینڈ جسم کے کئی اہم نظاموں کو بیک وقت متاثر کر سکتا ہے، خاص طور پر مدافعتی نظام، گردے اور نظامِ ہاضمہ۔

مدافعتی نظام پر اثر

تھائیرائیڈ ہارمون جسم کے میٹابولزم کو کنٹرول کرتا ہے، جو ہر خلیے کی توانائی سے جڑا ہوتا ہے۔ جب تھائیرائیڈ ہارمون کا توازن بگڑتا ہے تو مدافعتی نظام بھی متاثر ہو جاتا ہے۔
اگر تھائیرائیڈ طویل عرصے تک بے قابو رہے تو جسم کمزور ہو کر بار بار انفیکشن، الرجی اور سوجن جیسی شکایات کا شکار ہو سکتا ہے۔ بعض کیسز میں مدافعتی نظام حد سے زیادہ متحرک ہو کر آٹو امیون بیماریوں کا سبب بھی بن جاتا ہے۔

گردوں کی صحت بھی خطرے میں

تھائیرائیڈ اور گردوں کے تعلق کو اکثر نظر انداز کیا جاتا ہے، مگر ماہرین کے مطابق تھائیرائیڈ ہارمون گردوں میں خون کی روانی اور فلٹریشن کے عمل کو براہِ راست متاثر کرتا ہے۔
ہائپو تھائیرائیڈزم میں گردوں کی کارکردگی سست ہو سکتی ہے، جس سے جسم میں پانی جمع ہونا، سوجن اور الیکٹرولائٹ عدم توازن جیسی پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں، خاص طور پر ان افراد میں جو پہلے ہی گردوں کے مسائل سے دوچار ہوں۔

نظامِ ہاضمہ پر بھی بڑا اثر

تھائیرائیڈ کا سب سے زیادہ نظرانداز کیا جانے والا اثر نظامِ ہاضمہ پر پڑتا ہے، کیونکہ یہ ہارمون آنتوں کی حرکت کو کنٹرول کرتا ہے۔
اس کی کمی قبض، گیس، اپھارہ اور پیٹ بھاری رہنے کا سبب بن سکتی ہے، جبکہ زیادتی کی صورت میں دست یا بار بار پیٹ خراب ہونے کی شکایت سامنے آتی ہے۔
خراب نظامِ ہضم کی وجہ سے غذائی اجزاء جسم میں صحیح جذب نہیں ہو پاتے، جس سے کمزوری، خون کی کمی اور وٹامن ڈیفیشینسی جیسے مسائل جنم لیتے ہیں۔

ماہرین کی ہدایت

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کسی شخص کو طویل عرصے سے تھکن، وزن میں اچانک تبدیلی، ہاضمے کی خرابی، بار بار بیماری یا جسم میں سوجن محسوس ہو رہی ہو تو تھائیرائیڈ ٹیسٹ ضرور کروانا چاہیے، کیونکہ اصل مسئلہ ہارمونل عدم توازن ہو سکتا ہے۔

علاج صرف ادویات سے ممکن نہیں

تھائیرائیڈ کے علاج میں صرف ادویات کافی نہیں ہوتیں، بلکہ متوازن غذا، مناسب مقدار میں پروٹین، آئیوڈین اور سیلینیم، باقاعدہ ورزش، معیاری نیند اور ذہنی دباؤ پر قابو پانا بھی بے حد ضروری ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مرض کی بروقت تشخیص اور صحت مند طرزِ زندگی اپنانے سے نہ صرف تھائیرائیڈ کو قابو میں رکھا جا سکتا ہے بلکہ قوتِ مدافعت، گردوں اور نظامِ ہاضمہ کو بھی طویل عرصے تک محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔

یاد رکھیں، تھائیرائیڈ ایک چھوٹا سا گلینڈ ضرور ہے، مگر اس کا اثر پورے جسم پر پڑتا ہے۔ بروقت آگاہی اور درست نگہداشت ہی بہتر صحت کی ضمانت ہے۔

Watch Live Public News