ویب ڈیسک: 22 اکتوبر 1993ء کو ضلع اننت ناگ کے علاقے بیجبہاڑہ میں ایک ایسا المناک واقعہ پیش آیا جس نے کشمیری عوام کی تاریخ پر گہرے زخم چھوڑے۔
اس روز حضرت بل درگاہ کے محاصرے کے خلاف احتجاج کرنے والے نہتے کشمیریوں پر بھارتی بارڈر سکیورٹی فورس (BSF) کی فائرنگ سے درجنوں افراد جاں بحق اور سیکڑوں زخمی ہوئے۔ سری نگر میں واقع حضرت بل درگاہ اکتوبر 1993ء کے وسط سے بھارتی سکیورٹی فورسز کے محاصرے میں تھی۔ درگاہ میں موجود افراد کے خلاف جاری کارروائی اور محاصرے کے خاتمے کے مطالبے پر کشمیری عوام میں شدید تشویش پائی جاتی تھی۔
حضرت بل درگاہ معاصرے کے خلاف جمعے کے روز جامع مسجد میں نمازِ جمعہ کی ادائیگی کے بعد تقریباً 10,000 سے 15,000 افراد احتجاج کرتے ہوئے سری نگر-جموں قومی شاہراہ کی جانب بڑھے۔ بھارتی افواج نے مظالم کی انتہا کرتے ہوئے پر امن مظاہرین پر اندھا دھند گولیوں کی بوچھاڑ کر دی ۔ پر امن مظاہرین کا بنیادی مطالبہ حضرت بل درگاہ کا محاصرہ ختم کرنا تھا۔ گوری وان کے مقام پر بارڈر سکیورٹی فورس کی 74ویں بٹالین نے، مبینہ طور پر ڈپٹی کمانڈنٹ جے۔ کے۔ رڈولا کی قیادت میں، مظاہرین کو گھیر لیا اور ان پر فائرنگ شروع کر دی۔
عینی شاہدین کے بیانات کے مطابق، فائرنگ سے قبل مظاہرین کو کوئی مؤثر انتباہ نہیں دیا گیا تھا۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق، اس واقعے میں کم از کم 51 افراد جاں بحق اور 200 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ مقامی اعداد و شمار کے مطابق، جاں بحق ہونے والوں میں 25 طلبہ شامل تھے، جن میں کئی نوعمر تھے۔ ان میں 12 سالہ افروز احمد زرگر، 14 سالہ محمد اشرف زرگر، 15 سالہ الطاف حسین شیخ، 17 سالہ عبدالرحید وید اور 18 سالہ جاوید احمد وازہ کے نام بھی شامل ہیں۔
فائرنگ کے بعد قومی شاہراہ پر لاشیں بکھر گئیں اور متعدد افراد زخمی حالت میں زندگی بچانے کی کوشش کرتے رہے۔ زندہ بچ جانے والے غلام قادر راہ کے بیان سے اس سانحے کی شدت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ اس واقعے میں بھارتی فورسز کا صرف ایک اہلکار زخمی ہوا۔
مجسٹریٹ کی سربراہی میں ہونے والی تحقیقات، حوالہ EN/BFC/93/23-24 ، میں فائرنگ کو مبینہ طور پر ’’بالکل بلاجواز ‘‘ اور ’’سوچ سمجھ کر منصوبہ بندی کے تحت کی گئی انتقامی کارروائی ‘‘ قرار دیا گیا۔ یہ نتائج واقعے میں بھارتی فوج کے غیر انسانی ، غیر ضروری طاقت کے استعمال اور ذمہ داری کے تعین سے متعلق اہم پیش رفت تھی۔
اس واقعے کے سلسلے میں بی ایس ایف کے 13 اہلکاروں کے خلاف الزامات عائد کیے گئے، تاہم تمام اہلکار بری ہو گئے اور کسی کو سزا نہیں دی گئی۔ متاثرہ خاندانوں کو انصاف نہیں ملا۔ سانحہ بھارت کا ایک فالس فلیگ آپریشن ثابت ہوا۔ تین دہائیوں سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود بیجبہاڑہ میں واقع مزارِ شہدائے ان افراد کی یادگار ہے جنہوں نے اس سانحے میں اپنی جانیں گنوائیں۔ سانحہ متاثرہ خاندانوں اور مقامی آبادی کے لیے یہ مقام یاد، سوگ اور انصاف کے مطالبے کی علامت ہے۔ بیجبہاڑہ کا واقعہ کشمیر میں شہریوں کے تحفظ اور انسانی حقوق سے متعلق وسیع تر خدشات کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے۔
سن 1989ء کے بعد سے مختلف کشمیری اور بین الاقوامی تنظیموں نے شہری ہلاکتوں، دورانِ حراست اموات، جبری گمشدگیوں اور مبینہ ماورائے عدالت قتل کے واقعات کو دستاویزی شکل دی ہے۔
کیپشن: 22 اکتوبر 1993ء — سانحۂ بیجبہاڑہ قتلِ عام: نہتے کشمیریوں پر فائرنگ، درجنوں افراد جاں بحق، انصاف 33 سال بعد بھی منتظر!