(ویب ڈیسک ) وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ دو ہزار اٹھارہ تک اس صوبے میں مکمل امن قائم ہو گیا تھا، چند برسوں میں جو حالات پیدا کر دئیے گئے اس کی وجہ سے یہ صوبہ بہت متاثر ہے،چھ برسوں میں جو حالات پید ا کئے گئے اُس کے بعد امن و امان کو بہت نقصان پہنچا۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی صدارت میں وفاقی اپیکس کمیٹی کا اجلاس ہوا۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ خیبرپختونخوا غیور اور بہادر لوگوں کا خوبصورت صوبہ ہے ۔ہمیں مجبوری میں صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کرنا پڑا۔اللہ سے دعا ہے کہ صوبے میں امن اور ترقی کے عمل کو آگے بڑھانے میں مدد فراہم کرے۔
انہوں نے کہا کہ پشاور سکول کی چھت گرنے سے ایک استانی اور بچوں کی المناک وفات پر بہت غمزدہ ہوں،گورنر صاحب کو کہا تھا کہ وہ متاثرہ جگہ کا فوری دورہ کر کے اس سانحے کی مکمل تحقیقات کرائیں۔
وزیر اعظم نے کہا کہ چند برسوں میں جو حالات پیدا کر دئیے گئے اس کی وجہ سے یہ صوبہ بہت متاثر ہے۔چھ برسوں میں جو حالات پید ا کئے گئے اُس کے بعد امن و امان کو بہت نقصان پہنچا،ہماری بہادر افواج اور سیکورٹی اداروں نے بہت قربانیاں دے کر خیبر پختونخوا سمیت پاکستان میں دہشت گردی کا قلع قمع کر دیاتھا،دو ہزار اٹھارہ تک اس صوبے میں مکمل امن قائم ہو گیا تھا۔یہ امن سیکورٹی اداروں سمیت ہماری ماوں، بہنوں اور بچوں کی قربانیوں کے نتیجے میں قائم ہوا تھا۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 80ہزار لوگ شہید اور اربوں ڈالر کا نقصان ہوا، خیبرپختونخوا کے کئی سیاسی خاندانوں نے دہشت گردی کے خلاف بہت قربانیاں دیں،کئی گھراجڑ گئے، عظیم قربانیوں کے نتیجے میں مکمل امن قائم ہوا تھا،قیام امن کے بعد پی ٹی آئی دور میں دہشت گردوں کو دوبارہ بلایا گیا،تمام قربانیوں پر پانی پھیر دیا گیا ، جس کا خمیازہ صوبے کے عوام کو بھگتنا پڑا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ قوم کے بچوں کے مستقبل کی خاطر ہماری سیکورٹی فورسز کے ہزاروں جوانوں نے اپنی جانیں قربان کیں،ان قربانیوں کا احساس اور احترام نہ کرنے سے بڑی ملک دشمنی کوئی اور نہیں ہو سکتی،پی ٹی آئی دور میں خیبر پختونخوا میں تعلیم ،صحت ، امن سمیت عوامی فلاح کے تمام امور نظر انداز کئےگئے،اس سے بڑی مجرمانہ غفلت اور بے حسی کی مثال اور نہیں ہو سکتی،اسی وجہ سے حالیہ چند برسوں میں دہشت گردی میں پھر اضافہ ہوا۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ صوبائی حکومت کے دور میں پولیس کی پانچ ہزار آسامیوں پر بھرتی نہیں کی گئی،خیبر پختونخوا میں سیف سٹی منصوبہ ابھی بھی نامکمل ہے،انسداد دہشت گردی محکمے اور پولیس کی تربیت پر کوئی توجہ نہیں دی گئی،2010کے این ایف سی ایوارڈ میں تمام صوبوں نے ملکر خیبر پختونخوا کی مدد کا فیصلہ کیا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ تمام صوبوں نے انسداد دہشت گردی کے لئے خیبر پختونخوا کو وسائل فراہم کرنے پر اتفاق کیا،صوبوں نے مل کر فیصلہ کیا کہ خیبر پختونخوا دہشت گردی کے خلاف فرنٹ لائن ہے،تمام وزراء اعلی نے فیصلہ کیا کہ وفاق اور صوبوں کے حصے کے فنڈز میں سے ایک فیصد اضافی خیبر پختونخوا کو دئیے جائیں،2010 کے بعد سے خیبر پختونخوا کو این ایف سی ایوارڈ کے تحت انسداد دہشت گردی کی مد میں آٹھ سو ارب روپے دئیے گئے۔
انہوں نے کہا کہ افسوس کا مقام ہےکہ دہشت گردی ختم ہونے کی بجائے مزید ابھر کر سامنے آ گئی،خیبر پختونخوا میں سیکورٹی فورسز کو تربیت اور جدید اسلحہ اور دیگر آلات نہیں دئیے گئے،خیبر پختونخوا سے متعلق یہ انتہائی تکلیف دہ داستان ہے،وفاقی حکومت نے پی ٹی آئی کے وزرائے اعلی کو یقین دلایا تھا کہ انسداد دہشت کے لئے آپ کے ساتھ کھڑے ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ گذشتہ ڈھائی سال میں ملکی معیشت کو بحال کرنے کے لئے دن رات محنت کی گئی،سیاسی اور عسکری قیادت کی دن رات کوششوں سے ملکی معیشت مستحکم ہو چکی ہے،دوستوں کے ساتھ اغیار بھی اقرار کرتے ہیں کہ پاکستان نے معیشت بحال کی۔
انہوں نے سوال کیا کہ کیا ہم خیبرپختونخوا کو مزیدجلتے ہوئے دیکھتے رہتے؟،ہم نے سیاسی کمیٹی بنائی انھوں نے اڑتالیس گھنٹے تک مذاکرات میں بہت محنت کی،کب تک ہم خیبر پختونخوا میں خون ریزی برداشت کرتے رہتے؟،میں نے خیبر پختونخوا کے انتہائی خراب حالات پر صدر مملکت سے دو بار مشاورت کی،انہی وجوہات کی بناء پر خیبر پختونخوا میں سخت فیصلے کرنے پڑے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ مشاورتی کونسل وجود میں آ چکی ، جس میں مختلف شعبوں کے ماہرین شامل ہیں،مشاورتی کونسل میں قابل اور ایماندار لوگ شامل ہیں،تیرہ سال سے صوبے کے عوام ترسے ہوئے ہیں کہ ان کے مسائل حل ہوں،خیبر پختونخوا کے عوام چاہتے ہیں کہ انھیں بھی بنیادی سہولتیں انکی دہلیز پر میسر ہوں،اس تبدیلی کے مثبت نتائج حاصل کرنا لازمی ہے،اللہ کی مدد اور آپ سب کے تعاون سے سیکورٹی سمیت مجموعی حالات بہتر ہونگے۔
انہوں نے کہا کہ جس پارٹی نے کرپشن کے خاتمے کے نام پر ووٹ لئے وہ خود کرپشن میں ڈوبی ہوئی ہے، خیبرپختونخوا میں کرپشن کے نت نئی کہانیاں سامنے آئیں،خیبر پختونخوا میں پینے کے صاف پانی منصوبے میں ایک سو ارب روپے کی کرپشن ہوئی،کوہستان میگا سیکنڈل میں 37 ارب کی کرپشن سامنے آئی،پلیسر گولڈ پراجیکٹ میں من پسند افراد کو ٹھیکے دئیے گئے۔
وزیراعظم نے خطاب میں کہا کہ خیبر پختونخوا میں جو قدم اٹھایا گیا ،قانون و آئین اِس فیصلے کا اختیار دیتا ہے،خیبر پختونخوا سے متعلق فیصلے پر تمام حلیف جماعتوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں،صدر پاکستان آصف علی زرداری اور قائد نواز شریف کا خصوصا شکریہ ادا کرتا ہوں۔
انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا رحمان بابا اور خوشحال خان خٹک کا صوبہ ہے،آزادی کے وقت اس صوبے نے بڑی اکثریت سے پاکستان میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا،اسوقت خیبر یختونخوا دہشتگردی ، بنیادی عوامی سہولیات کی عدم دستیابی سے بہت متاثر ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے آخر میں کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام محرمیوں کا شکار ہیں،وعدہ کرتا ہوں کہ وفاقی حکومت ، عسکری قیادت کے ساتھ ملکر خیبر پختونخوا کے عوام کے مسائل حل کرے گی،خیبر پختونخوا میں خوشیاں ، امن اور ترقی کا دور واپس لائیں گے،خیبر پختونخوا کے عوام کی خوشحالی کے خوابوں کو عملی جامعہ پہنائیں گے ۔